پاکستان میں ذیابیطس کا خطرناک پھیلاؤ، ہر تیسرا بالغ متاثر ہونے کا خدشہ

 پاکستان میں ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق شہری آبادی میں غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور ذہنی دباؤ جیسے عوامل ذیابیطس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات ہیں۔ اندازوں کے مطابق ملک میں لاکھوں افراد ایسے بھی ہیں جو اس بیماری کا شکار تو ہیں لیکن انہیں اس کا علم نہیں۔ نوجوان بھی متاثر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پہلے یہ مرض زیادہ تر درمیانی عمر کے افراد میں پایا جاتا تھا، تاہم اب نوجوانوں اور حتیٰ کہ بچوں میں بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے کیسز سامنے آ رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔ خطرات کیا ہیں؟ ماہرین کے مطابق شوگر کو نظر انداز کرنے سے دل کے امراض، گردوں کی خرابی، بینائی متاثر ہونے اور فالج جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر بے قابو شوگر طویل مدت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ بچاؤ کیسے ممکن؟ طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ: روزانہ کم از کم 30 منٹ ورزش کریں میٹھے مشروبات اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں وزن کو متوازن رکھیں سال میں کم از کم ایک بار شوگر ٹیسٹ ضرور کروائیں ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کریں ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو بھی قومی سطح پر آگاہی مہم، صحت مند طرز زندگی کے فروغ اور بنیادی صحت مراکز میں اسکریننگ کی سہولت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ذیابیطس پاکستان کے لیے ایک بڑے صحت بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔  

کیٹاگری میں : صحت