آواسٹن انجیکشن اسکینڈل میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا: وزیر صحت پنجاب

پنجاب کے نگران وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا ہے کہ مبینہ طور پر صوبے بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی بینائی کو نقصان پہنچانے کا باعث بننے والی دوا آواسٹن انجیکشن اسکینڈل میں ملوث 2 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے شعبہ آنکوکوجی کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار میں شرکت کے بعد آج میڈیا سے گفتگو کے دوران صوبائی وزیر صحت نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹیکہ کے واقعات کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ٹیکہ اسکینڈل میں ملوث تمام عناصر کو ہر قیمت پر کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ آواسٹن ٹیکہ کے واقعات میں حکومت پنجاب کو کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے، گزشتہ رات آواسٹن ٹیکہ کے واقعات میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم انہوں نے ملزمان سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی ہدایت کے مطابق آواسٹن ٹیکہ کے متاثرہ پندرہ مریضوں کی سرجری کی جا چکی ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ بینائی سے متاثر ہونے والے تمام مریضوں کی بینائی کو بچایا جا سکے، اس کیس میں کسی ملزم سے کوئی رعایت نہیں برتی جائی گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آوسٹن ٹیکہ کے واقعات میں استعمال ہونے والے تمام پوائنٹس کو سیل کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق سی ایم ایل پروگرام میو ہسپتال میں کامیابی سے جاری ہے، گزشتہ برس کے دوران 3 ارب کی ادویات سے میو ہسپتال لاہور نے پنجاب بھر کے مریضوں کو مفت علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور، قصور اور جھنگ کے اضلاع میں ذیابیطس کے متعدد مریضوں کے ریٹینا کو پہنچنے والے نقصان کو دور کرنے کے لیے آواسٹن کے انجیکشن لگائے گئے لیکن الٹا اس سے شدید انفیکشن ہوا جس کے نتیجے متعدد کی بینائی ختم ہو گئی۔ ذیابیطس کے مریضوں میں جان لیوا بیماری اینڈو فیتھلمائٹس کا مسئلہ اس وقت منظرعام پر آیا جب ضلع قصور میں دوا کے ری ایکشن کے متعدد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر آواسٹن دوا کی دوبارہ پیکیجنگ اور اس کی سپلائی کے ساتھ ساتھ کولڈ چین کے نظام میں بھی مسائل کا بھی پتا چلا جس کی وجہ سے پنجاب میں یہ بیماری پھیلی۔ سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا کہ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے مبینہ طور پر مذکورہ دوا نے صوبے میں 68 مریضوں کی بینائی کو بری طرح متاثر کیا، یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ صوبے بھر میں مزید کیسز سامنے آرہے ہیں اور محکمہ صحت کے حکام سرکاری اعداد و شمار کا حصہ بنانے کے لیے ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت