اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی بڑے پیمانے پر انسانی ہلاکتوں اور تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے اس قدرتی آفت سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امدادی تعاون کی یقین دہانی… اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں گوتریس نے کہا کہ وہ اس انسانی المیے پر “شدید رنجیدہ” ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک کے مطابق، سیکریٹری جنرل نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا، “سیکریٹری جنرل ان تمام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ ان کے اہلِ خانہ کو اپنی مخلصانہ ہمدردیاں پیش کرتے ہیں۔” گوتریس نے اس بات کی بھی یقین دہانی کروائی کہ اقوامِ متحدہ کے ملک میں موجود دفاتر پاکستان اور بھارت دونوں میں متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں۔ اور ضرورت کے مطابق ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال تشویشناک خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ شدید بارشوں اور طوفانی سیلابوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 323 افراد جاں بحق جبکہ 156 زخمی ہو چکے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جاں بحق ہونے والوں میں 273 مرد، 29 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد میں 123 مرد، 23 خواتین اور 10 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 336 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ جن میں سے 106 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ 230 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ضلع بونیر میں ہوئی ہیں، جہاں اب تک 209 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں سوات، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام شامل ہیں، جہاں بھی جانی و مالی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ مزید بارشوں کی پیش گوئی محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں آئندہ دنوں میں مزید تین مون سون اسپیلز متوقع ہیں، جن کی شدت میں 50 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ شمالی علاقہ جات اور پوٹھوہار ریجن خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ راولپنڈی، مری، جہلم، چکوال اور اٹک میں شدید بارشوں “کلاؤڈ برسٹ” کا خدشہ ہے۔ جبکہ لاہور سمیت مختلف شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 17 تا 19 اگست کے دوران شدید بارشیں متوقع ہیں، اور یہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔ متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیاں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایات پر متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ 89 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان متاثرہ اضلاع میں روانہ کر دیا گیا ہے۔ سامان میں شامل اشیاء میں خیمے، بستر، گدے، کچن سیٹس، ترپالیں، چٹائیاں، مچھر دانیاں، جنریٹرز اور دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے اب تک ضلعی انتظامیہ کو 800 ملین روپے کے امدادی فنڈز جاری کیے ہیں، جبکہ ضلع بونیر کے لیے الگ سے 500 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

