بھارت سے ایک اور سیلابی ریلہ 29 اگست کی شام کو پاکستان پہنچے گا، فلڈ فورکاسٹنگ کی جانب سے نیا مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، فلڈ فورکاسٹنگ پنجاب نے بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کا نیا مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ سیلابی ریلہ 29 اگست کی شام دریائے چناب… فلڈ فورکاسٹنگ پنجاب کے مطابق، ہیڈ تریموں بیراج پر انتہائی بلند درجے کا سیلابی ریلہ ہوگا، جبکہ 2 ستمبر کو یہ ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی شدید سیلابی صورت حال پیدا کرے گا۔ شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے باعث، پنجاب میں اب تک 25 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی دریائے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس سے کئی اضلاع شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پانی دیہات اور بستیوں میں داخل ہو چکا ہے اور بعض شہر بھی زیرِ آب آ گئے ہیں، صوبے میں یہ تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن میں سیلاب سے 15 افراد جاں بحق ہوئے، کمشنر گوجرانوالہ نے بتایا سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جان سے گئے، گجرات میں سیلاب کے باعث 4، نارووال میں 3، حافظ آباد میں 2 اور گوجرانوالہ میں 1 شخص جان سے گیا۔

