اعصابی یا ذہنی تناؤ آپ کی سوچ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ ذہنی تناؤ مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے اور اکثر لوگ اس کے مختلف اثرات کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو صحیح بات نہیں ہے۔ ذہنی تناؤ کا مسلسل شکار رہنا سردر، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، ذیابیطس، جلد کے امراض، دمہ، جوڑوں کے درد، ڈپریشن اور ذہنی بے چینی وغیرہ کا شکار بناسکتا ہے۔ اس کا بر وقت علاج ضروری ہے تاہم آپ مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کرکے ذہنی دبائو پر کسی حد تک قابو پاسکتے ہیں۔ جسمانی ورزشباقاعدگی سے کی جانے والی ورزش ذہنی دباؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس سے ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے اور نیند بھی بہتر آتی ہے، اس سے جسمانی اور ذہنی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مناسب آرامہر دن میں آرام کے لیے کچھ وقت لازمی نکالیں۔ مراقبے سے جسم میں پیدا ہونے والے دباؤ کے اثرات میں کمی آتی ہے جبکہ یوگا آکسیٹوسین کے لیول کو بڑھاتا ہے جس سے جسم میں ہارمونز بڑھتے ہیں اور اعصابی دباؤ سے بچانے میں مددگار ہے۔ صحت مند خوراکاچھی خوراک کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ کھایا جائے اور وزن بڑھا لیا جائے۔ سائنس اس معاملے میں بھرپور رہنمائی کرتی ہے کہ آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے کون سی خوراک مناسب ہے۔ اچھی نیندنیند کے صحت پر خوش گوار اثرات کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے سونے اور جاگنے کے لیے طے شدہ سلسلہ بنایا گیا ہو۔ بستر میں جاتے وقت اس کی پابندی کی جائے اور لیٹنے کے بعد کسی اور سرگرمی جیسے لیپ ٹیپ یا فون پر چیٹ کرنے یا گیمز میں مصروف ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ معمول سیٹ کریںزندگی کے کسی بھی میدان کے لیے معمول سیٹ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور اس کی ضرورت اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب آپ کے اردگرد اشیا غیر یقینی کی کیفیت میں ہوں۔ معاملات کو معمول کے مطابق ترتیب دینے سے غیر محسوس انداز میں رہنمائی ملتی ہے۔ اس سے آپ کے جسم اور ذہن پر دباؤ کم ہوتا ہے اور آپ کی توجہ بہتر انداز میں کام کرتی ہے۔ سماجی اور خاندانی تعلقاتانسان اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک سماجیجانور ہے۔ جب ہم ہنسی مذاق کے لئے یا مل جل کر کام کرنے کے لئے اپنے دوستوں یا گھر والوں کے قریب ہوتے ہیں تو اس وقت دراصل ہم اپنی بھلائی کا احساس برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ توجہ کے مرکز میں تبدیلیعام طور پر ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والا انسان منفی چیزوں کے بارے میں سوچنا کر دیتا ہے اور اپنی توجہ مثبت چیزوں کی طرف مرکوز نہیں کر پاتا۔ جس سے ذہنی دباؤ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے کی صورت میں اپنی توجہ مثبت چیزوں کی طرف مرکوز رکھیں۔ اپنی پریشانیاں بتائیےزیادہ تر افراد کو زندگی کے مسائل اور پریشانیوں کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے افراد اپنے پریشانیوں کے بارے میں کسی کو آگاہ بھی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اپنی پریشانیوں کے متعلق اپنے خاندان کے لوگوں یا دوستوں سے بات کی جائے۔ کیفین کے استعمال میں کمیکیفین ایک ایسا کیمیکل ہے جس کے استعمال سے صحت پر بہت سے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جن میں سرِ فہرست ذہنی دباؤ میں اضافہ ہے۔ چائے سمیت بہت سی غذاؤں میں کیفین پائی جاتی ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کے استعمال میں کمی لانی چاہیئے۔ تاہم کیفین کو اگر متوازن مقدار میں استعمال کیا جائے تو طبی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے کوشش کریں کہ چائے جیسے مشروب دن میں تین سے چار مرتبہ سے زیادہ دفعہ استعمال نہ کریں۔ دوسروں سے زیادہ توقعات نہ باندھیںدوسروں سے زیادہ توقعات نہ باندھیں، کیوں کہ اگریہ پوری نہ ہوں، تو ذہن پر شدید منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ کسی سے کوئی اُمید ہی نہ رکھی جائے۔ بات صرف اتنی ہے کہ ہمیشہ یہ گمان نہ رکھا جائے کہ سامنے والا آپ کی توقعات پر پورا ہی اُترے گا۔ کبھی کبھی حقیقت، تصور سے یک سر مختلف بھی ہوسکتی ہے۔

