’’ریئر ارتھ منرلز‘‘ کیا ہیں؟ اور ان کے کیا فوئد ہیں؟

ریئر ارتھ منرلز وہ معدنیات ہیں جو زمین کی سطح پر محدود مقدار میں پائی جاتی ہیں، لیکن اپنی سائنسی اور صنعتی اہمیت کے باعث نہایت قیمتی تصور کی جاتی ہیں۔ یہ معدنیات 17 عناصر پر مشتمل ایک مخصوص گروہ سے تعلق رکھتی ہیں، جنہیں ’’ریئر ارتھ ایلیمنٹس‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان میں لینتھینائڈ کے 15 عناصر کے علاوہ اسکیڈیم اور یٹریئم شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بھی بالخصوص بلوچستان اور شمالی علاقوں میں ان کے ذخائر موجود ہیں، تاہم ان پر تحقیق اور تجارتی بنیادوں پر نکالنے کا عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ ریئر ارتھ منرلز جدید ٹیکنالوجی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ موبائل فون، کمپیوٹر، برقی گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز، سولر پینلز، فائبر آپٹکس، دفاعی ہتھیاروں اور ایرو اسپیس صنعت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ معدنیات زمین میں نسبتاً زیادہ پھیلاؤ رکھتی ہیں، مگر خالص حالت میں ان کا نکالنا پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے، اسی لیے انہیں ’’ریئر‘‘ یعنی نایاب کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نیوڈیمیم  اور ڈیسپروزیئم انتہائی طاقتور میگنیٹس بنانے میں استعمال ہوتے ہیں، جو برقی موٹروں اور اسپیکرز میں ضروری ہیں۔ یٹریئم اور یوروپیم  ایل ای ڈی اسکرینز اور لیزر ٹیکنالوجی میں اہم ہیں، جبکہ سریم  گاڑیوں کے کیٹالیٹک کنورٹرز میں استعمال ہوتا ہے جو فضائی آلودگی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دنیا میں ریئر ارتھ منرلز کے سب سے بڑے ذخائر چین میں پائے جاتے ہیں، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 60 سے 70 فیصد مہیا کرتا ہے۔ دیگر اہم ممالک میں آسٹریلیا، امریکا، بھارت، برازیل اور ویتنام شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی خاص طور پر بلوچستان اور شمالی علاقہ جات میں ان معدنیات کے ذخائر موجود ہونے کی رپورٹس ہیں، مگر ان پر تحقیق اور کمرشل بنیادوں پر نکالنے کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔