چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے منگل سے لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ مجھ پر توہین مذہب کے الزامات اس لیے لگائے گئے تاکہ مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کیا جائے۔
عمران خان نے کہا ہے کہ میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ ہوں، میں ملک کا سابق وزیر اعظم ہوں لیکن میرے اوپر حملے کی ایف آئی آر اب تک درج نہیں ہوسکی۔
عمران خان نے کہا کہ سائفر معاملے کی بھی تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر سائفر ڈرامہ تھا تو کیوں اس کی تحقیقات نہیں کی جاتی۔ دنیا کی جمہوری حکومتوں میں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ صاف و شفاف انویسٹی گیشن کیسے کریں گے؟ مجھے ملک میں صاف و شفاف انویسٹی گیشن چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف مریم نواز، مریم اورنگزیب اور جاوید لطیف نے پریس کانفرنسز کیں اور مجھ پر حملے کے بعد کون سے لوگ تھے جنہوں نے رد عمل دینا شروع کیا۔ ابھی ایف آئی آر بھی نہیں کٹی کہ سوشل میڈیا میں ٹوئٹس آنا شروع ہو گئیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پولیس اور حکومت ہماری اور گرفتار ملزم کا ویڈیو بنا کر لیک کیا جاتا ہے۔ آئی جی سے جب پوچھا کیسے ملزم کی ویڈیو لیک ہوئی تو کہتا ہے کہ یہ ہیک ہوگئی ہے۔

