فالج سے بچانے میں مددگار آسان طریقہ

ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis) یعنی جوڑوں کے درد کے مرض میں مبتلا مریض اگر حجامہ یا کپنگ کروائیں تو ان میں فالج سمیت امراض قلب کا شکار ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس آٹو امیون ڈیزیز یعنی خودکار مدافعتی بیماری ہے، جس کا کوئیی مستند علاج نہیں، تاہم ماہرین صحت علامات کی بنیاد پر مختلف ادویات سے اس کا علاج کرتے ہیں۔ ریوماٹائیڈ آرتھرائٹس کو عام زبان میں جوڑوں کا درد کہا جاتا ہے جو کہ عام طور پر زائد العمر افراد کی بیماری ہے، تاہم بعض افراد کو پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور نوجوان بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ جوڑوں یا گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد میں امراض قلب اور فالج کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تاہم ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر ایسے افراد کپنگ یا حجامہ کروائیں تو ان میں فالج کا شکار ہونے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہوسکتے ہیں۔ طبی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق چین میں 23 ہزار سے زائد افراد پر 1997 سے 2010 تک تحقیق کی گئی اور ان افراد میں تحقیق کے آغاز میں آرتھرائٹس کی تشخیص نہیں ہوئی تھی لیکن بعد ازاں 2 ہزار سے زائد رضاکاروں میں مذکورہ بیماری کی تشخیص ہوئی۔ ماہرین نے آرتھرائٹس کے مریضوں کو تحقیق کے دوران دو گروپوں میں تقسیم کیا اور ایک گروپ کو تین سال مختلف مراحل کے دوران کپنگ یا حجامہ کروانے کا کہا گیا۔ تین سال بعد دونوں گروپوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ 50 سال سے زائد العمر افراد اور خصوصی طور پر خواتین کو فالج کا اٹیک بھی ہوا اور دونوں گروپوں کے مریضوں کو فالج ہوا۔ تاہم نتائج سے معلوم ہوا کہ ان مریضوں کو فالج کا اٹیک کم ہوا، جنہوں نے کپنگ یا حجامہ کروایا تھا اور حجامہ کروانے سے فالج کے امکانات 41 فیصد تک ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کرکے جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کو حجامہ کا مشورہ دیا جانا چاہئیے۔

کیٹاگری میں : صحت