ماہرین نے مصنوعی ذہانت کو جوہری ہتھیاروں کے برابر خطرہ قرار دے دیا۔ انتباہ کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ تاحال خاموش ہے، 1300سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی رفتار سست کرنیکا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے مصنوعی ذہانت خدشات منفی قوتوں کی مبالغہ آرائی ہے، اس میں سبقت حاصل کرنیوالے ملک کی برتری قائم رہے گی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات اور ممکنہ وجودی خطرات پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، تاہم امریکی حکومت اب بھی مؤثر قانون سازی اور ضابطہ بندی کے حوالے سے سست روی کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1300 سے زائد کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک کھلے خط میں حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کی جائے اور اس شعبے کے لیے سخت حفاظتی ضابطے متعارف کرائے جائیں۔

