ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے اسد عمر کو دوبارہ طلب کرلیا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کو دوبارہ حکمنامہ طلبی جاری کرتے ہوئے 27 اپریل کو طلب کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ فنانس مینیجر پی ٹی آئی نوید اسلم نے حکمنامہ پی ٹی آئی لاہور آفس میں وصول کیا۔ حکمنامہ طلبی 14 اپریل کو پیش نہ ہونے پر جاری کیا گیا، 14 اپریل کو اسد عمر نے حاضر ہونے کی بجائے تحریری جواب بھجوا دیا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق اسد عمر کا جواب غیر تسلی بخش تھا انہوں نے اپنی تحریر میں ایف آئی اے کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا تھا، رہنما پی ٹی آئی اسد عمر مہم کے مینیجر تھے اور ان غیر ملکی ممنوعہ رقوم کے استعمال میں کلیدی کردار ادا کرنے میں شامل تھے۔
ایف آئی اے کے مطابق انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ سے پی ٹی آئی کی 2013 الیکشن کمپین پر کروڑوں کے اخراجات کیے گئے، جس کا جواب اسد عمر اپنی تحریر میں دینے میں ناکام رہے، یہ رقوم بیرون ملک سے انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ میں آئی تھیں اسد عمر کو کس نے 2013 کا کمپین مینیجر تعینات کیا؟
ایف آئی اے کے مطابق اسد عمر جواب دینے سے گریزاں ہیں، یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی نے ان غیر ملکی فنڈز کو حاصل کرنے کے ذرائع کو مخفی رکھا اور کسی بھی فورم پر ڈکلیئر نہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے لاہور ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی آر نمبر 52/2022 مورخہ 05 اکتوبر 2022 کو درج کر چکی ہے۔