وائی فائی سے دل کی دھڑکنوں کو جانچنے جا سکتا ہے؟ سائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

وائی فائی سگنلز کو انٹرنیٹ سروسز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور بظاہر اس سے ہٹ کر ان کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ مگر سائنسدانوں نے وائی فائی کو دل کی دھڑکن کو جانچنے کا ذریعہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جی ہاں مستقبل قریب میں اسمارٹ واچ یا چیسٹ مانیٹر کی بجائے وائی فائی کے ذریعے دل کی دھڑکن کی جانچ پڑتال ممکن ہو جائے گی۔ امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائسندانوں نے ایک ایسا سسٹم تیار کیا ہے جو وائی فائی سگنلز کو استعمال کرکے دل کی دھڑکن کو کسی وئیر ایبل ڈیوائس جیسے اسمارٹ واچ، چیسٹ مانیٹر یا دیگر کے بغیر ہی مانیٹر کرسکتا ہے۔ پلس فائی نامی اس پراجیکٹ کے ابتدائی ڈیٹا سے ثابت ہوا کہ عام وائرلیس ڈیوائسز کو بھی مستند ہیلتھ سنسرز کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اہم انسانی افعال جیسے دل کی دھڑکن کی وائرلیس مانیٹرنگ معمر افراد کی نگہداشت اور فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق طبی اداروں میں اس طرح کے سسٹمز کو آسانی سے لگایا جاسکتا ہے اور وائی فائی سگنلز ہر جگہ ہی موجود ہوتے ہیں کیونکہ وہ دیواروں کے آر پار ہو جاتے ہیں، جس سے کیمرے پر مبنی مانیٹرنگ کی ضرورت نہیں ہوگی، جس کے حوالے سے پرائیویسی خدشات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں۔ پلس فائی سسٹم میں وائی فائی سگنلز کے انسانی جسم سے رابطے کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ہر بار جب ایک سگنل گزرتا ہے تو دل کی دھڑکن ایک مبہم لہر پیدا کرتی ہے، یہ سسٹم ان ننھی لہروں کو پکڑ کر اس ڈیٹا کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس کے بعد مشین لرننگ ماڈل اس ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بہت سادہ ہے اور تحقیق میں ثابت ہوا کہ سستے ہارڈ وئیر جیسے 5 ڈالرز کے وائی فائی موڈیول بھی اس سسٹم کو چلانے کے لیے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ پلس فائی سسٹم دل کی دھڑکن کو محض 5 سیکنڈز میں پڑھ سکتا ہے ۔ یہ سسٹم 3 میٹر کی دوری سے بھی دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرسکتا ہے۔ اس سسٹم کے حوالے سے تحقیق کے نتائج ایک کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے اور ماہرین نے بتایا کہ اس حوالے سے وہ مزید کام کر رہے ہیں تاکہ سانس اور نیند کی مانیٹرنگ پر مبنی سسٹمز بھی تیار کرسکیں۔