امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے دوران یوکرین کا نیا نقشہ پیش کیا، جو تقریباً 20 فیصد چھوٹا دکھایا گیا۔ اس اہم ملاقات میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، یورپی یونین اور نیٹو کے نمائندے بھی شریک تھے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے زیلنسکی کو وہ نقشہ دکھایا جس میں روس کے زیر قبضہ علاقے نمایاں کیے گئے تھے۔ چار سال سے جاری جنگ کے دوران روسی افواج یوکرین کے لگ بھگ 20 فیصد حصے پر قابض ہوچکی ہیں۔ اوول آفس میں پیش کردہ نقشے میں یہ علاقے گلابی رنگ سے الگ کیے گئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر نے امن معاہدے کے لیے ڈونباس کے باقی حصے پر کنٹرول کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم، یوکرینی حکومت کسی ایسی ڈیل کو قبول کرنے پر تیار نہیں جس میں روسی قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے۔ کیف کا مؤقف ہے کہ مکمل امن معاہدے سے پہلے جنگ بندی ضروری ہے اور روس کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جو منجمد روسی اثاثوں کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے ایک اور مغربی اخبار کی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ کے دوران روس میں شامل ہوئے مشرقی علاقوں سے یوکرین نے دستبردار ہونے پرغور کا عندیہ دے دیا ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق یوکرین اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نئے علاقوں پر روس کا فی الواقع قبضہ تسلیم کرنے پر غور کرے تاہم اس قبضہ کو روس کا قانونی حق تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپی رہنماؤں نے امن مذاکرات سے پہلے جنگ بندی پر زور دیا مگر صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ عمل ضروری نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کا مستقل حل نکالیں۔ ملاقات میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ جنگ بندی کیلئے تمام جنگی قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جانا چاہیے۔صدرٹرمپ سےبہت اچھی بات ہوئی تاہم بہترین بات مستقبل میں ہوگی۔ یوکرینی صدر اور یورپی رہنماؤں نے یوکرین کیلئے سکیورٹی یقین دہانیوں پر زور دیا تاہم اس بارے میں حتمی صورتحال سامنے نہیں آئی۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکا سے سکیورٹی گارنٹی کیلئے یوکرین 100 ارب ڈالر مالیت کا امریکی اسلحہ خریدنے کا وعدہ کرے گاجس کے لیے رقم میں معاونت یورپ فراہم کرےگا۔ اس تجویز میں 50 ارب ڈالر مالیت کی وہ ڈیل بھی شامل ہے جس کے تحت یوکرینی کمپنیوں سے مل کر امریکا ڈرونز تیار کرے گا۔ جنگ ختم کرنے کے لیے صدرٹرمپ روس اوریوکرین کے صدور سےاب ایک ساتھ ملاقات کریں گے۔ فرانس کے صدر میکرون نے کہا کہ ٹرمپ پیوٹن زیلنسکی ملاقات میں یورپ کی بھی نمائندگی ہونی چاہیے۔

