پاکستان میں اسٹار لنک سمیت سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے لیے راہ ہموار

پاکستان میں ایلون مسک کی ملکیت والی انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک سمیت عالمی و مقامی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے پاکستان میں راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز کے لائسنس کا مسودہ جاری کر دیا، جس سے اب دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت ممکن ہو جائے گی، اور اس سے اسٹار لنک جیسی سروسز کے لیے بھی پاکستان آنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اسٹارلنک، شنگھائی اسپیس کام اور دیگر کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، اس لائسنس کے تحت کمپنیاں سیٹلائٹ سسٹمز قائم کرنے اور چلانے کی مجاز ہوں گی۔ یعنی فکسڈ ارتھ اسٹیشن، گیٹ وے اسٹیشن اور وی سیٹ کی اجازت ہوگی، اس لائسنس کے تحت براڈ بینڈ، بیک ہال اور انٹرنیٹ بینڈوڈتھ سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔ لائسنس حاصل کرنے کے بعد کمپنیاں صارفین کو براہِ راست سروسز دیں گی، فکسڈ سیٹلائٹ سروس لائسنس فیس 5 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ ماضی میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے 15 الگ الگ لائسنسز لینا لازمی تھے، نئے نظام سے صرف ایک لائسنس کے ذریعے سیٹلائٹ سروسز ممکن ہوجائیں گی۔ مسودے کے مطابق لائسنس کی مدت 15 برس ہوگی، منظوری کے 18 ماہ میں سروسز فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، کمپنیوں کو پاکستان میں کم از کم ایک گیٹ وے اسٹیشن قائم کرنا ہوگا۔ پی ٹی اے لائسنس کے تحت صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر ہی محفوظ رکھنے کی شرط بھی عائد کی گئی ہے۔ لائسنس سے قبل کمپنیوں کو پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ میں رجسٹریشن حاصل کرنا ہوگی، پی ایس اے آر بی 2024 کے قواعد کے تحت اسپیس سرگرمیوں کا مجاز ادارہ ہے۔ جس نے عالمی کنسلٹنٹ کے ساتھ ریگولیٹری فریم ورک پر کام شروع کر رکھا ہے، فریم ورک مکمل ہونے کے بعد کمپنیوں کی رجسٹریشن شروع ہو جائے گی۔ لائسنس فیس پانچ لاکھ ڈالر کے ساتھ ریونیو شیئرنگ ماڈل بھی شامل ہے، لائسنس ہولڈرز کو سالانہ 1.5 فی صد یو ایس ایف فنڈ میں جمع کرانا لازمی ہوگا۔ پی ٹی اے نے یہ مسودہ لائسنس 19 ستمبر 2025 تک عوامی جائزے کے لیے جاری کیا ہے، حتمی لائسنس پی ٹی اے کی منظوری کے بعد شائع کیا جائے گا۔ پی ٹی اے نے مسودہ لائسنس اسٹیک ہولڈرز کی آرا کے بعد تیار کیا، فروری 2025 کے مشاورتی عمل میں موصولہ تجاویز شامل کی گئی ہیں، ٹیلی کام ایکٹ اور پالیسیوں کے مطابق مسودے میں ترامیم کی گئیں۔