گرفتار پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار رہنما فواد چوہدری کو لاہور سے اسلام آباد پہنچا دیا گیا۔ فواد چوہدری کو ایف 8 کچہری میں پیش کیا گیا، جس کیلئے عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے۔ پولیس کی بھاری نفری ایف 8 کچہری کے باہر موجود ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب کو شام 6 بجے طلب کرلیا۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آپ کو نہیں سنوں گا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ فواد چوہدری پنجاب پولیس کے پاس نہیں ہے، پولیس کوبتایاکہ مجھے عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرنا ہے۔
عدالت نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آئی جی اسلام آباد اور آئی جی پنجاب کو طلب کر لوں، جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ کےحکم کی تعمیل کردی،آرڈر آگے پہنچا دیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ یہ باتیں چھوڑیں یہ بتائیں فواد چوہدری کہاں ہیں ؟، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ وہ پنجاب پولیس کے پاس نہیں ہیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں پہلے بندے کو پیش کریں۔
اس سے قبل عدالت نے فواد چوہدری کو پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کی تھی۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست احمد پنسوتا ایڈووکیٹ نے داٸر کی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فواد چوہدری کی گرفتاری غیر قانونی ہے، فواد چوہدری کو ایف آئی آر تک نہیں دکھائی گئی، گرفتاری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جاٸے۔
دوبارہ سماعت کے آغاز پر وکیل نے کہا کہ ابھی تک فواد چوہدری کو پیش نہیں کیا گیا، ڈی ایس پی نے بتایا ہے کہ فواد چوہدری کو لارہے ہیں۔
اس پرعدالت نے کچھ دیر کے لئے سماعت ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فواد چوہدری جہاں کہیں بھی ہیں، پولیس انہیں آدھے گھنٹے میں پیش کرے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ فواد چودری کو علی الصبح حراست میں لیا گیا تھا، ان کے خلاف سیکریٹری الیکشن کمیشن عمرحمید کی مدعیت میں اسلام آباد کے تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔