اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بالوں کو رنگنے سے آپ کی شخصیت میں ایک زبردست تبدیلی آتی ہے اور اگر آپ کے بالوں کا رنگ آپ کو سوٹ کر جائے تو تعریفوں کے پل بھی بننے لگتے ہیں ۔ کچھ لوگ بالوں کی سفیدی چھپانے کے لئے اور کچھ لوگ صرف خوبصورت دکھنے کے لئے ہیر کلر کا انتخاب کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ ڈائی مختلف طرح کے کیمیکلز سے تیار کیا جاتا ہے اس لئے اس کے سائیڈ افیکٹس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ہیئر کلر کے سائیڈ افیکٹسسر میں خشکیبالوں کے لئے جن کلرز کا استعمال کیا جاتا ہے ان میں ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو بالوں کی جلد کو متاثر کرتے ہیں جس کی وجہ سے خشکی کی شکایت ہو سکتی ہے ۔ الرجیہیئر ڈائی میں پی فینائلین ڈیامائن نامی ایک کیمیکل شامل کیا جاتا ہے جو مختلف اقسام کی الرجی، آنکھوں کے گرد سوجن اور جلد پر ریشیز جیسے مسائل کی وجہ بن سکتا ہے ۔ سر میں خارش اور تکلیف کا احساسماہرین کے مطابق بیشتر افراد کو ہیئر کلر میں موجود اجزاء کے نتیجے میں الرجی کا سامنا ہوتا ہے۔ ان علامت کا آغاز میں احساس نہیں ہوتا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ خارش، سوجن یا سر پر رطوبت ظاہر ہونے لگتی ہے۔ کینسرامریکا میں کی گئی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ہیئر ڈائی بریسٹ کینسر جیسے مرض کی وجہ بن سکتا ہے۔ یہ مرض سیاہ فام خواتین کو سفید فام خواتین کے مقابلے پچاس فیصد تک زیادہ متاثر کرتا ہے۔۔ دمہاکثر کلرز میں امونیا کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ یہ سانس کے رستے جسم میں داخل ہو کر کھانسی، گلے میں تکلیف اورپھیپڑوں میں سوزش کی وجہ بنتا ہے۔ دمے کے مرض کی شدت میں بھی ہیئر ڈائی خطرناک حد تک اضافہ کرسکتا ہے۔ چند تجاویز:پورے بال رنگنے سے پہلے ایک لٹ یا سر کے تھوڑے حصے پر کلر ٹیسٹ کریں کہ کہیں اس سے کوئی نقصان تو نہیں ہو رہا۔ہمیشہ اچھی کوالٹی والے ہیئڑ کلر استعمال کریں ۔حاملہ خواتین پرمیننٹ ہیئر ڈائی کے استعمال سے گریز کریں۔پرمیننٹ ہئر ڈائی کے بجائے ٹیمپرری کلر استعمال کرنے کو ترجیح دیں ۔
اہم خبریں
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments

