کینسر کا مرض تھا ہی نہیں، مگر 11 سال تک کیموتھراپی ہوتی رہی

لندن(مائی نیوز MNN) برطانیہ میں صحت کے نظام کی ایک سنگین طبی غلطی اس وقت سامنے آئی جب ایک خاتون کو کینسر کی تشخیص کے بعد تقریباً 11 سال تک کیموتھراپی سمیت ایسے علاج سے گزرنا پڑا، جس کی اسے درحقیقت ضرورت ہی نہیں تھی۔

نمائندہ مائی نیوز کے مطابق بیکی جونز (Becky Jones) اس وقت صرف 21 سال کی تھیں جب انہیں کینسر کی تشخیص بتائی گئی۔ اس تشخیص نے ان کی زندگی کا رخ ہی بدل دیا اور وہ طویل عرصے تک ایسے علاج کا سامنا کرتی رہیں جو ایک ایسے مرض کے لیے تھا جو بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں تھا ہی نہیں۔

کینسر کے شبہے اور تشخیص کے بعد بیکی کو برسوں تک کیموتھراپی کروائی گئی۔ اس دوران انہیں نہ صرف علاج کے جسمانی اثرات برداشت کرنا پڑے بلکہ اس غلط تشخیص نے ان کی ذاتی زندگی، مستقبل اور ذہنی سکون پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف ایک غلط تشخیص تک محدود نہیں رہا بلکہ 11 سال تک جاری رہنے والے علاج میں تبدیل ہوگیا۔

طبی دنیا میں کینسر کی درست تشخیص کے لیے مختلف ٹیسٹ، اسکین، بایوپسی اور ماہرین کی رائے اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں کسی مریض کو طویل عرصے تک کیموتھراپی دینے سے قبل تشخیص کی مسلسل تصدیق انتہائی اہم ہوتی ہے۔

بیکی جونز کا معاملہ اس سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ اگر ابتدائی تشخیص غلط ہو تو صحت کے نظام میں موجود نگرانی اور دوبارہ جانچ کے مراحل مریض کو غیر ضروری اور نقصان دہ علاج سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ مریضوں کے لیے بھی ایک اہم سبق سامنے لاتا ہے کہ سنگین بیماری کی تشخیص کی صورت میں، خصوصاً طویل اور انتہائی مؤثر علاج شروع ہونے سے پہلے، دوسری طبی رائے (Second Opinion) حاصل کرنا بعض حالات میں انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔

بیکی کی داستان محض ایک طبی غلطی کی کہانی نہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ایک غلط تشخیص مریض کی زندگی کے کئی برس، صحت اور مستقبل پر غیر معمولی اثر ڈال سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں