کراچی میں 13 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیمیں، ٹاؤنز کا کردار محدود ہونے پر تنازع

کراچی (شاہ الکاظمی الموسوی) بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کے 24 ٹاؤنز کے لیے مختص 13 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کو 6 بڑے ترقیاتی پیکیجز کے تحت استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے منظور شدہ یہ ترقیاتی فنڈز ابتدا میں ٹاؤنز کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری کیے گئے تھے تاہم بعد ازاں یہ رقم ٹاؤنز کے بجائے کے ایم سی کو منتقل کر دی گئی، جس کے بعد اب ان منصوبوں کی پروکیورمنٹ اور ایگزیکیوشن کا مکمل اختیار بھی کے ایم سی کے پاس ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ترقیاتی کام 6 بڑی کنسٹرکشن فرموں کے ذریعے انجام دیے جائیں گے، جن کے ذریعے 24 ٹاؤنز کی اندرونی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے 13 ارب روپے کے فنڈز کو سابقہ اضلاع کی سطح پر تقسیم کیا گیا ہے جن میں ضلع وسطی کے لیے 3 ارب روپے سے زائد، ضلع ملیر کے لیے 2 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد، ضلع شرقی کے لیے 2 ارب 91 کروڑ روپے سے زائد، ضلع جنوبی کے لیے 1 ارب 27 کروڑ روپے، ضلع کورنگی کے لیے 95 کروڑ روپے جبکہ ضلع غربی کے لیے 2 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں مجموعی طور پر 139 سڑکوں کی تعمیر و بحالی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹاؤنز کی جانب سے اپنی اپنی حدود میں ترقیاتی کام کرانے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی تاہم فنڈز کے ایم سی کو منتقل ہونے کے بعد ٹاؤنز کا براہ راست کردار محدود ہو گیا ہے۔ اس فیصلے پر بعض ٹاؤن چیئرمینز کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے اس اقدام کو ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کے ایم سی نے آئندہ چند روز میں ان ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام کام 6 بڑے کنسورشیم کے ذریعے مکمل کرائے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی کاموں میں معیار پر سمجھوتہ کیا گیا تو ٹاؤن چیئرمینز کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں