کے ایم سی کے اربوں کے ٹینڈرز مشکوک، نیب میں بڑا کیس

کراچی (شاہ الکاظمی الموسوی) کراچی کے ترقیاتی منصوبے ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی ٹینڈرز میں مبینہ کرپشن، بدعنوانی اور ریکارڈ میں جعلسازی کے الزامات سامنے آنے کے بعد معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت متعدد تحقیقاتی اور نگرانی کے اداروں تک پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پرائڈ کنسٹرکشن اینڈ بلڈرز نامی نجی فرم نے اس حوالے سے نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA)، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل، چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری بلدیات اور دیگر متعلقہ اداروں کو تحریری شکایات ارسال کی ہیں۔
شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز میں من پسند ٹھیکیداروں کو نوازا گیا، جبکہ بعض ٹھیکے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض دیے گئے۔ درخواست گزار نے پروکیورمنٹ کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر اراکین کے خلاف بھی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
شکایت میں حال ہی میں بحال ہونے والے ایگزیکٹو انجینئر (ایکسین) فیروز حسن صدیقی کے کردار کی خصوصی تحقیقات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ٹینڈرنگ کے عمل میں آن لائن پے آرڈرز کے لازمی ریکارڈ کو نظر انداز کیا گیا جبکہ سرکاری دستاویزات میں منظور شدہ ریٹس میں مبینہ ردوبدل اور اوور رائٹنگ کرکے منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ظاہر کیا گیا۔
درخواست میں اس عمل کو “ریٹس ٹیمپرنگ” قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ ٹینڈرز کی الاٹمنٹ میرٹ کے بجائے مبینہ پسند و ناپسند اور مالی مفادات کی بنیاد پر کی گئی، جو سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد 31 اور 45 کی خلاف ورزی ہے۔
شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام ٹینڈرز، مالیاتی ریکارڈ، ادائیگیوں اور متعلقہ کمپنیوں کے پروفائلز کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
دوسری جانب ایکسین فیروز حسن صدیقی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نیب سمیت ہر فورم پر تحقیقات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کرنے والی فرم کو 14 کروڑ روپے مالیت کا کام نہیں ملا، جس کے بعد یہ شکایت سامنے آئی ہے۔
فیروز صدیقی کے مطابق مذکورہ فرم ماضی میں کے ایم سی کے ٹینڈرز میں جعلی بینک گارنٹی جمع کرانے کے الزامات کا سامنا بھی کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ فرم تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کے لیے اہل ہے اور اسی بنیاد پر اسے دو کروڑ روپے مالیت کے تین سے چار منصوبے بھی دیے جا چکے ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد کے ایم سی کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹینڈرنگ کے عمل پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے ممکنہ تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں