کراچی میں پانی کا ایمرجنسی بحران، شہریوں نے وفاقی حکومت سے مدد مانگ لی

کراچی (میری خبر)  شہرِ قائد میں پانی کا بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن کے بعد حب پمپنگ اسٹیشن سے بھی پانی کی فراہمی معطل ہونے کے باعث شہر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ماہرین اور شہری حلقوں کی جانب سے پانی کے مسئلے پر امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے اور ’’واٹر فساد‘‘ کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پانی اور بجلی کی مسلسل قلت سے تنگ کراچی کے شہریوں نے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب واٹر کارپوریشن نے ایک مرتبہ پھر بحران کی ذمہ داری کے الیکٹرک پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی میں تعطل کے باعث پانی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ شہریوں نے واٹر کارپوریشن اور کے الیکٹرک دونوں اداروں کو شہر کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ادارہ فراہمی و نکاسی آب شدید گرمی کے موسم میں شہر کو بلاتعطل پانی فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ایک روز قبل نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن پر کیبل فالٹ کے باعث پانی کی فراہمی میں نمایاں کمی واقع ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ روز حب پمپنگ اسٹیشن پر بھی کیبل فالٹ پیدا ہونے سے شہر کو پانی کی سپلائی معطل ہو گئی۔

واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق حب پمپنگ اسٹیشن کی بندش کے نتیجے میں شہر کو مزید 85 ایم جی ڈی پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ نارتھ ایسٹ پمپنگ اسٹیشن پر پیدا ہونے والا فالٹ دور کر کے وہاں پانی کی فراہمی بحال کر دی گئی ہے، تاہم حب پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی مین کیبل میں خرابی کے باعث سپلائی بند ہوئی، جسے درست کرنے کے لیے کے الیکٹرک کا عملہ کام کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے پانی کا سنگین بحران جاری ہے۔ کبھی پانی کی مرکزی لائنیں پھٹنے کے باعث سپلائی متاثر ہوتی ہے تو کبھی بجلی اور کیبل فالٹس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی معطل ہو جاتی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں پانی دستیاب نہیں، لیکن ہائیڈرنٹس کو بلا تعطل پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے عوام میں شدید بے چینی اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سخت گرمی کے دوران پانی کی عدم دستیابی کے خلاف گزشتہ روز نارتھ کراچی میں شہریوں نے بھرپور احتجاج کیا تھا، جبکہ اب احتجاج کا دائرہ شہر کے دیگر علاقوں تک بھی پھیل رہا ہے۔

دریں اثنا، واٹر کارپوریشن شہریوں کو مسلسل پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں کا مؤقف ہے کہ ادارہ کراچی سے ماہانہ اربوں روپے محصولات اور بلوں کی مد میں وصول کرتا ہے، لیکن پانی کی فراہمی کے متبادل انتظامات کرنے کے بجائے پورا نظام کے الیکٹرک پر منحصر کر دیا گیا ہے۔

کراچی کے شہریوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں پانی کے بڑھتے ہوئے بحران، ادارہ جاتی ناکامیوں اور عوامی مشکلات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار اداروں کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولت کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں