بٹ کوائن نے عالمی مارکیٹ میں ریکارڈ توڑ قیمت حاصل کر لی

ایشیائی مارکیٹس میں بٹ کوائن کی قیمت نے تاریخی طور پر پہلی بار اپنی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے اور 1 لاکھ 24 ہزار ڈالر کی ریکارڈ حد عبور کر گئی ہے، جس سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں زبردست اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ اس بے مثال اضافہ نے سرمایہ کاروں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور بٹ کوائن کی مقبولیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بلند قیمت کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما ہیں، جن میں عالمی مارکیٹ میں طلب میں اضافہ اور محدود رسد شامل ہیں۔ جمعرات کو ایشیائی تجارتی اوقات کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1 لاکھ 24 ہزار امریکی ڈالر کی حد عبور کی۔ یہ اضافہ امریکہ میں موافق قانون سازی اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری کے باعث ہوا۔ جولائی میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بٹ کوائن کی قیمت مختصر وقت کے لیے 124،500 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بعد ازاں قیمت میں معمولی کمی دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ بدھ کے روز امریکی اسٹاکس میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس اور ٹیکنالوجی سے متعلق نیسڈیک انڈیکس نے رواں ہفتے نئی بلندیوں کو چھوا۔ جس کا اثر کرپٹو کرنسی پر بھی پڑا۔ بٹ کوائن کی حالیہ قیمت میں اضافہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت ریگولیٹری تبدیلیوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو کرپٹو کے بڑے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی کی قیمتوں کو ان بڑی کمپنیوں اور افراد سے بھی سہارا ملا ہے۔ جنہیں ”وہیلز“ کہا جاتا ہے یعنی وہ افراد یا ادارے جو بڑی مقدار میں کرپٹو اثاثے رکھتے ہیں۔