خاتون کو نشہ آور چیز پلا کر مبینہ اجتماعی زیادتی

لاہور (جرار عباس) آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون نے تین نامعلوم افراد کے خلاف مبینہ اجتماعی زیادتی، نشہ آور چیز پلانے اور قیمتی سامان چھیننے کا الزام عائد کرتے ہوئے ڈیفنس سی پولیس کو درخواست دے دی، جس پر پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 375-A اور 337-J کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس کو دی گئی درخواست کے مطابق خاتون تقریباً 15 سے 20 روز قبل کاروباری سلسلے میں پاکستان آئی تھی اور لاہور میں مقیم تھی۔

خاتون کے بیان کے مطابق 25 ستمبر کی رات تقریباً 11 بجے دو خواتین اسے کھانے کے لیے ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں تین مرد بھی موجود تھے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ بعد ازاں مذکورہ افراد نے اسے گاڑی میں گھمانے کی پیشکش کی اور اسے ایک نامعلوم فلیٹ میں لے گئے۔ خاتون کے مطابق فلیٹ میں اسے ایک ایسی چیز پلائی گئی جس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی، جبکہ ہوش آنے پر اسے معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق خاتون نے الزام عائد کیا کہ اسے کئی گھنٹوں تک فلیٹ میں رکھا گیا اور اس کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا۔ بعد ازاں 26 ستمبر کو اسے غازی انٹرچینج کے قریب چھوڑ دیا گیا، جہاں اس نے ایک راہگیر سے موبائل فون لے کر پولیس ایمرجنسی 15 پر اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد قانونی کارروائی شروع کی گئی اور واقعے کی تفتیش کا آغاز کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں اجتماعی زیادتی اور مبینہ طور پر بے ہوش کرنے والی یا نشہ آور چیز استعمال کرنے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔ تفتیش کے دوران پولیس کے لیے یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ خاتون کو کیفے سے فلیٹ تک کون لے کر گیا، فلیٹ کس کے زیر استعمال تھا، مبینہ طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کس کی ملکیت ہے اور واقعے کے وقت وہاں کون کون موجود تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ڈیٹا، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب شواہد بھی تحقیقات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ خاتون کا طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد اور متاثرہ خاتون کے بیان کی روشنی میں ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں