نارتھ ناظم آباد بلاک-J میں رہائشی پلاٹ C-184 مبینہ غیر قانونی بینکوئٹ: SBCA کی اپنی رپورٹ کے باوجود کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

کراچی (سید طلعت شاہ الکاٌظمی الموسوی) نارتھ ناظم آباد کے بلاک میں رہائشی پلاٹ نمبر: سی -184 بلاک جے پر قائم بینکوئٹ ہال کے معاملے نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حیران کن طور پر SBCA کے متعلقہ افسران خود موقع کا معائنہ کرکے رپورٹ میں رہائشی پلاٹ پر گراؤنڈ پلس فرسٹ فلور بینکوئٹ کی موجودگی کی نشاندہی کرچکے ہیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق متعلقہ ویجلنس سیکشنمیں اس تعمیر کی کوئی منظوری بھی موجود نہیں تھی جس نے حکومت سندھ کے کرپشن کے خلاف دعوے اور کارکردگی کی ایک مثال قائم کر دی.

SCRM No. 20260702-9

 مورخہ 2 جولائی 2026 کے تحت سامنے آیا۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ویجیلنس اور متعلقہ بلڈنگ انسپکٹرنے موقع کا معائنہ کیا اور اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ رہائشی پلاٹ کے باوجود گراؤنڈ اور پہلی منزل پر بینکوئٹ تعمیر شدہ پایا گیا۔

رپورٹ میں مزید درج ہے کہ پہلے ہی 30 جون 2026 کو اس معاملے کی رپورٹ کرچکا تھا، تاہم اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ غیر منظور شدہ تعمیر کی نشاندہی کے بعد عملی طور پر کیا کارروائی کی گئی۔

معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسی سرکاری فائل پر متعلقہ افسران کی تحریری ہدایات بھی موجود ہیں۔ دستاویز میں معاملہ متعلقہ ضلع کو ضروری کارروائی کے لیے بھیجنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ مزید نوٹ میں رہائشی پلاٹ پر مبینہ غیر قانونی بینکوئٹ کے خلاف قانون کے مطابق ضروری قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تاہم دستیاب ریکارڈ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان ہدایات کے بعد عمارت کو سیل نہیں کیا گیا نہ ہی تعمیراتی سرگرمی رکوائی گئی، کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا، یا مبینہ خلاف ورزی کے خلاف انہدام سمیت کوئی دوسری قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی- کیوں ؟

یہ صورتحال سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی اور قانون پر عملدرآمد کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر ایک بڑے بینکوئٹ کی تعمیر رہائشی پلاٹ پر ہوئی اور متعلقہ ریکارڈ میں اس کی منظوری موجود نہیں تھی تو یہ جاننا ضروری ہے کہ تعمیر کے دوران متعلقہ افسران نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی اور سرکاری رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی معاملہ رکا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ضلع وسطی کے ڈائریکٹر فہیم صدیقی ہیں.

 سرکاری رپورٹ میں منظوری نہ ہونے کی نشاندہی اور اس کے باوجود مؤثر کارروائی کے بارے میں ابہام نے شفاف تحقیقات کی ضرورت ضرور پیدا کردی ہے۔ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا کسی مرحلے پر کسی سرکاری اہلکار نے مبینہ طور پر تعمیراتی سرگرمی کو نظر انداز کیا، غیر معمولی تاخیر کی یا کسی نجی فریق کو فائدہ پہنچایا۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی چونکہ حکومت سندھ کے بلڈنگ کنٹرول کے نظام کا متعلقہ ادارہ ہے، اس لیےکے معاملے میں ذمہ داری بھی اسی ادارے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ واضح کرے کہ اس کی اپنی رپورٹ کے بعد کیا اقدامات کیے گئے۔ متعلقہ ریکارڈ سامنے لایا جائے، اور اگر موجود نہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب یہ بھی جاننا اہم ہے کہ رہائشی پلاٹ پر بینکوئٹ کے استعمال کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی

 معاملہ اب صرف ایک مبینہ غیر قانونی تعمیر کا معاملہ نہیں رہا بلکہ نگرانی، قانون کے نفاذ اور سرکاری افسران کی جوابدہی کا سوال بن چکا ہے۔

سب سے اہم سوال یہی ہے:

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خود تعمیر دیکھ لی، اپنی رپورٹ میں منظوری نہ ہونے کی نشاندہی بھی کردی اور قانونی کارروائی کی ہدایت بھی جاری ہوگئی، تو پھر عملی کارروائی کہاں ہے؟

اس سوال کا جواب متعلقہ ضلعی حکام اور حکومت سندھ کو دینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں