کراچی ( الکاظمی الموسوی) گلستانِ جوہر بلاک 1 میں کے ڈی اے کے محکمہ اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ نے ایمنیٹی پلاٹ ST-6 پر زیرِ تعمیر سارہ برج ویو پروجیکٹ کو سیل کردیا۔ حکام کے مطابق مذکورہ پلاٹ جنرل پولی کلینک کے لیے مختص تھا جسے 2017 میں کمرشل کیا گیا، جبکہ 1994 کے بعد ایمنیٹی پلاٹس کو کمرشل کرنے پر پابندی عائد ہے۔ معاملے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق اینٹی کرپشن کی انکوائری بھی جاری ہے۔
اس حوالے سے وائس چیئرمین آل پاکستان جرنلسٹ کونسل سید طلعت کاظمی الموسوی المشہدی نے 2024 میں باقاعدہ طور پر کے ڈی اے، ماسٹر پلان اتھارٹی ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں اس غیر قانونی تعمیرات پر بننے والی عمارت کے خلاف شکایات درج کروائیں جس پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بشمول ماسٹر پلان اتھارٹی نے بھاری نذرانے کے عوض آنکھیں بند کر لیں اور غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھا۔ اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ عمارت سیل کرنے۔کا مقصد مزید مال بٹورنے کی مہم ہے اور کچھ نہیں۔ واضح رہے کہ کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تعینات ڈائریکٹر لینڈ عاطف نقوی کرپشن کے ماہر کھلاڑی اور نیب کی واشنگ مشین سے گزرنے کے بعد کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی لینڈ کے معاملات کی کمانڈ کر رہے ہیں۔ موصوف گلستان جوہر میں چائنہ کٹنگ کے ماسٹر مائنڈ ہیں اور حساس اداروں سمیت تحقیقاتی اداروں کی چھاتہ اوڑھے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر بے چارے کراچی کے عوام اسی طرح رفاعی پلاٹوں پر قبضے پارکوں پر قبضے چائنا کٹنگ دیکھتے رہیں گے۔



