وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کے پی آپریشنز پر ایک بار بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گوارا نہیں کیا، محسن نقوی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کے پی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں ایک بار بھی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا اور ہر بار کہا کہ سیاسی طور پر آپریشن افورڈ نہیں کرسکتا۔ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات سے اٹھ کر ہم نہیں گئے، ہم نے… پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ہم گورنر راج لگانے کے بالکل بھی قائل نہیں تھے، ہم نے پوری کوشش کی کہ کے پی میں دہشت گردی کے خلاف کارروائی ہو، ہم چاہتے تھے کہ یہ لڑائی خیبرپختونخوا کی لڑائی ہے بس آپ لیڈ کریں مگر کے پی حکومت لیڈ کے لیے تیار نہیں تھی، اور نہ کبھی انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی، تمام پریس ریلیز نکلوالیں کہیں مذمت نہیں ملے گی۔  محسن نقوی نے کہا کہ میں ذاتی طور پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے کئی بار ملا، ہم نے طے کیا کہ پانچ اضلاع میں پولیس کو مضبوط کریں گے تاکہ وہ کارروائی کرسکے، یہ بات سہیل آفریدی سے میں نے مل کر خود طے کی تھی مگر بعد میں انہیں کون ہدایات دیتا ہے یہ الگ بات ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات سے اٹھ کر ہم نہیں گئے، ہم نے کوئی ٹائم لمٹ بھی نہیں دی، مذاکرات ہر بار ہم نے آکر کیے، انہوں ںے ایک کاغذ لہرایا اور کہا کہ اس میں موجود تمام شرائط کے پی حکومت کی تھیں جو ہم نے مانیں آخری لائن ہماری تھی، لانگ مارچ بھی ہم نے کہا کرلیں۔ انہوں ںے کہا کہ جب موقع ملے سہیل آفریدی سے پوچھیں جب بھی کے پی کے لیے پیسوں کا مسئلہ آیا میں سی ایم کو لے کر وزیراعظم کے پاس گیا، ان کا ایک ایک مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، آخری گھنٹے تک ہماری کوشش تھی کہ ان بارہ اضلاع میں ایمرجنسی نہ لگے، سی ایم سہیل آفریدی نے ایک بار بھی آپریشن کے لیے فوج کے ساتھ کھڑا ہونا گواراہ نہیں کیا اور ہر بار کہا کہ سیاسی طور پر آپریشن افورڈ نہیں کرسکتا۔ محسن نقوی نے کہا کہ یہ ابھی سے نہیں ہے ہم نے اگست ستمبر یا اس سے پہلے بھی ہی کوشش کہ کہ کے پی حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون کرے مگر وہ راضی نہ ہوئی اور نہ آپریشن کو انہوں نے اون کیا۔  انہوں نے ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کی کہ پی ٹی آئی کے بڑے آئیں اور بات کریں اور وہیں فیصلہ کریں، آپ بھی اختیار لے کر آئیں ہم بھی اپنے پی ایم سے اختیار لے کر آٗئیں گے اور جو بات ہوگی وہیں ہوگی یہ نہیں ہوگا کہ ہم پوچھ کر آتے ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کے کچھ پوائنٹ پڑھے اور کہا کہ پہلا پوائنٹ اپوزیشن لیڈرز اور وزیراعظم کی ملاقات کا تھا، دوسرا پوائنٹ سیاسی کمیٹی کی تشکیل تھی، تیسرا یہ کہ جس کا جو قانونی حق ہے اسے دیا جائے جس میں علاج اور ملاقاتیں شامل ہیں، چوتھا پوائنٹ کے پی میں دہشت گردی میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا تھا یہ پی ٹی آئی کی حکومت کا ہی بنایا ہوا تھا۔ محسن نقوی نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے پر دل اداس ہے ہمیں بالکل بھی خوشی نہیں، پشاور میں جنازوں میں ہم جاتے تھے مگر صوبائی حکومت کے بندے نہیں آتے تھے یہ نہ کہا جائے کہ ہم نے دہشت گردی کو مس یوز کیا، بنوں میں جوانوں کی شہادت ہوتی ہے اور اگلے دن وزیراعلیٰ فوج کے خلاف تقریر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی ہمیں فارم 47 کے لیے قسم کھانے کا بول رہے ہیں، محمود خان اچکزئی پہلے اپنی نشست کیلئے تو قسم کھائیں، میں یہاں بیٹھے لوگوں کے لیے قسم نہیں کھا سکتا لیکن آپ اپنی نشست کی قسم کھائیں کیا آپ جیت کر آئے ہیں؟