امریکا کے ہر بچے کو اسپیس ایکس کا ایک شیئر دینے کا اعلان

دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک نے آئندہ سال امریکا کے ہر بچے کو اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کا ایک ایک شیئر دینے کا اعلان کردیا، جس کی موجودہ مالیت تقریباً 10 ارب 70 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ ایلون مسک نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اگلے سال امریکا کے ہر بچے کو اسپیس ایکس کا ایک شیئر دیں گے، اور یہ سلسلے کا پہلا قدم ہوگا۔ اسپیس ایکس کی مالیت تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر بتائی گئی ہے، جبکہ جمعے کو کاروبار کے اختتام پر کمپنی کے ایک شیئر کی قیمت تقریباً 146 ڈالر تھی۔ امریکی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 7 کروڑ 30 لاکھ ہے۔ موجودہ قیمت کے مطابق ہر بچے کو ایک شیئر دینے پر تقریباً 10 ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ تاہم ایلون مسک نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس منصوبے کے تحت کون سے بچے اہل ہوں گے اور شیئرز تقسیم کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ ایلون مسک کا یہ اعلان مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنی اینتھروپک کی جانب سے اپنے کم از کم 5 فیصد شیئرز پبلک بینیفٹ فنڈ کے لیے مختص کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کمپنی کی تازہ ترین مالیت کے مطابق ان شیئرز کی قدر تقریباً 48 ارب ڈالر بنتی ہے۔ دوسری جانب امریکا میں بچوں کو کم عمری ہی سے مالیاتی منڈیوں میں حصہ دار بنانے کے منصوبوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں 18 سال سے کم عمر لاکھوں بچوں کو ’ٹرمپ اکاؤنٹس‘ نامی وفاقی بچت و سرمایہ کاری پروگرام میں شامل کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 2025 کے آغاز سے 2028 کے اختتام تک پیدا ہونے والے اہل بچوں کو حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ ایک ہزار ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔