دہشت گردی کے خلاف بلوچستان حکومت فوج اور وفاق سے مکمل تعاون کررہی ہے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف بلوچستان حکومت فوج اور وفاق سے مکمل تعاون کررہی ہے جبکہ سہیل آفریدی نے کے پی میں آپریشن ہونے سے صاف انکار کردیا تھا، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر مل کر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو وزیراعظم آج بھی بیٹھنے… یہ بات انہوں نے سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کے دوران کہی۔ قبل ازیں دیگر سینیٹرزنے بھی اظہار خیال کیا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارے سینیٹر مولانا عبدالواسع نے ابھی اجلاس میں کے پی اور بلوچستان کا موازنہ کیا، کے پی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کا جو تعاون درکار تھا وہ نہیں کررہی تھی، وزیراعلیٰ کے پی نے متعدد مرتبہ کہا کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے جب کہ بلوچستان حکومت مسلح افواج اور وفاقی حکومت سے مکمل تعاون کررہی ہے، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ملک کے تمام لوگوں کو ہم خیال ہونا پڑے گا۔ رانا ثنا نے کہا کہ نواز شریف نے ان لوگوں کو بھی فون کیا جو باہر 126 دن تک دھرنا دیے بیٹھے تھے، مولانا عبدالواسع مولانا فضل الرحمان سے بات کرلیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر مل کر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو وزیراعظم آج بھی بیٹھنے کو تیار ہیں تاہم دہشت گردی کا مسئلہ جو ان کو درپیش ہے اس سے نمٹنا ضروری ہے۔  انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اسپیکر آفس جاکر وزیراعظم سے ملنے کو تیار نہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کو کہا کہ آپ وزیراعظم سے مل لیں انہوں نے کہا کہ میں نہیں جاؤں گا میں نے کہا اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر چلے جائیں انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر کو مانتے ہی نہیں۔ تو ستمبر کے پہلے ہفتے میں الیکشن کا طے ہوگیا تھا، شاہ محمود قریشی نے کہا میں بانی پی ٹی آئی کو بتا کر آتا ہوں اس کے بعد شاہ محمود قریشی کو انکار ہوگیا، روزانہ پاک فوج کے کڑیل جوان شہید ہورہے ہیں وہ لوگ مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں ملاقاتوں میں ایک پورے ادارے کے سربراہ کے خلاف بیانیہ بناتے ہیں ادارے کے سربراہ کے خلاف آپ تحقیر آمیز بیانیہ بنائیں پھر رولز اور قانون کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مذاکرات کے ڈرافٹ کو دیکھیں جس میں تمام چیزیں طے ہوئیں انہوں نے صرف ایک پوائنٹ پر انکار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دیں گے، آپ کبھی ٹرمپ کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں، یہ تیسرا لانگ مارچ تھا ان کا لانگ مارچ جو یہ کرنا چاہتے تھے بیس لاکھ بندوں کو لاکر حملہ آور ہونے کی بات انہوں نے کی تھی ہم نے نہیں کی۔ سینیٹر مشعال اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جن اضلاع میں معدنیات ہیں وہاں ایمرجنسی لگادی گئی ہے باقی میں گورنر راج لگا ہے، کیا صوبائی اسمبلی نے ایمرجنسی لگانے کیلئے کوئی قرارداد پیش کی؟ مشترکہ اجلاس میں ہمیں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے کتنے واقعات ہوئے، آپ ملک کو توڑنے کی طرف لے جارہے ہیں، گورنر راج لگے ہوئے ایک ہفتہ ہوا، آپ نے انسداد دہشت گردی کے لیے کیا اقدامات کیے؟ گورنر ایمرجنسی لگنے کے تین دن بعد ہی بین الاقوامی اداروں کو کہتے ہیں آئی یہاں سے معدنیات نکالیں۔ سینیٹر مشعال اعظم نے کہا کہ محسن نقوی نے آدھی بات کی، بیرسٹر سیف کو ہیلی کاپٹر دیا گیا اور عمران خان کو نتھیا گلی بھیجنے کی پیشکش کی، ہمیں بتایا گیا بانی پی ٹی آئی کی علی امین سے بات کروائی گئی اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے دیگر لوگوں کو کہا گیا علی امین سے بات نہیں کی، ہمیں کہا گیا بانی پی ٹی آئی راضی ہوگئے ہیں 26 نمبر پر رک جائیںہم نے کہا پی ٹی سی ایل پر ہماری بات کروائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے جو کونسل بنائی ہے اس میں سے 6 لوگوں نے معذرت کرلی ہے، کونسل میں دو لوگ ایسے بھی ہیں جو دو سال پہلے فوت ہوچکے ہیں اس کا مطلب ہے آپ نے دو سال پہلے منصوبہ بنا رکھا تھا۔ قبل ازیں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ دہری اذیت کا شکار ہیں ایک طرف دہشت گرد اور دوسری طرف حکومت انہیں مارتی ہے، کمشنر کو اغوا کرلیا جاتا ہے اور مقامی لوگ پیسے جمع کر کے تاوان دیتے ہیں، بلوچستان میں روزگار کے تمام معاملات مفلوج ہوچکے ہیں، جو کنٹینر پر چڑھ کر ڈیزل ڈیزل کرتے تھے آج وہی ہمارے پاؤں پڑ رہے ہیں، یہی مسلم لیگ ن والے ہیں جن کے ہم بہت کام آئے لیکن یہ اپنے لوگوں کو سنبھال نہیں سکتے۔ ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ اپوزیشن نے کہا ہے گورنر راج کی وجہ معدنیات ہیں، معدنیات گزشتہ چھ ماہ میں تو دریافت نہیں ہوئیں، پی ٹی آئی ملک اور حکومت کے خلاف سازش کر رہی تھی، گزشتہ ایک سال میں کے پی میں دہشت گردی کے 3ہزار واقعات ہوئے، اس ملک کی بقا میں ہی سب کی بقا ہے، 2013ء میں کے پی میں 8 فیصد بےروزگاری تھی اب 12فیصد ہوگئی، شرح خواندگی 2013ء میں پچاس فیصد تھی آج بھی یہی ہے، فرق یہ پڑا کچھ موٹر سائیکلوں والے لینڈ کروزر پر آگئے، آپ نے عوام کو گالیاں سکھائیں چینی صدر کا دورہ روکنے کے لیے دھرنا دیا۔ سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ ہم نہ ایمرجنسی سے ڈرتے ہیں اور نہ گورنر راج سے، ہم چار سال سے حالت جنگ میں ہیں، ہم نے وہ بھی برداشت کیا کہ ہمارے لیڈر کو جیل میں ڈال دیا گیا اور ہم سے نشان چھینا گیا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لوگوں نے جیل میں قید لیڈر اور نشان کے بغیر ہمیں ووٹ دیا، گیارہ اکتوبر کو کے پی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، تمام لیڈر شپ کو جیل میں ڈالا گیا انتخابی نشان چھینا گیا اس کے باوجود عوام نے ملک بھر میں مینڈیٹ دیا، پنجاب میں معاشی مارشل لگائیں وہاں پر 12ارب کا جہاز خریدا گیا، کیا پاکستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ صرف ن لیگ کے پاس ہے؟ ہم امن چاہتے ہیں ہم نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں افرد کی قربانی دی۔ سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ آج سے دو ماہ بعد بھی کوئی حکومتی رکن میرے ساتھ بنوں یا ڈیرہ اسماعیل خان مغرب کے بعد نہیں جاسکتا، انہوں نے ملک کو تباہ و برباد کردیا، سیاسی بنیادوں پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو گرفتار کیا گیا، ورکرز اور سیاسی رہنماؤں کی بہنوں بیٹیوں کو اٹھایا جارہا ہے خدا نہ کرے ہمارے دل میں بدلے کی آگ جلے بانی پی ٹی آئی باہر نکلا تو ان سب کی سیاست ختم ہوجائے گی۔ سینیٹر گردیپ سنگھ نے کہا کہ کے پی کے میں کوئی ایسے حالات نہیں تھے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی جاتی، پاکستان میں دہشت گردی پہلے بھی تھی اور نائن الیون کے بعد دہشت گردی پاکستان میں آئی۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ کے پی میں گورنر راج ان کی وجہ سے ہی لگا ہے، انہیں جب بھی اوقات دکھاؤ بھاگ جاتے ہیں، یہ کہتے ہیں دہشت گردی ہماری ترجیح نہیں ہم نے 190 ملین پاؤنڈ میں ملوث شخص کو چھڑانا ہے، بانی پی ٹی آئی کو عدالت نے ہی چھوڑنا ہے ہم نے جیل میں نہیں ڈالا۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ گزشتہ سال بھی شکایت کی ایک شخص میری تصویر اپنی ڈی پی پر لگا کر لوگوں سے پیسے مانگ رہا ہے این سی سی آئی اے کو بھی بتایا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا، نئے ڈی جی این سی سی آئی اے کو فون کرتا ہوں وہ فون اٹھانے پر تیار نہیں ہیں۔ اس پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سینیٹر وقار مہدی آج ہی میرے ساتھ چلیں، ڈی جی این سی سی آئی اے کو فون کرکے معاملہ حل کروائیں گے۔ دریں اثنا سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔