سوئٹزرلینڈ کے سائنس دانوں نے ایک جدید تجرباتی ڈیوائس تیار کی ہے جو جسم میں نصب کیے جانے کے بعد بجلی کی مدد سے خون میں شوگر کی سطح کم کر سکتی ہے جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں نئی امید پیدا ہوگئی ہے۔ ای ٹی ایچ زیورخ یونیورسٹی کے محققین کی تیار کردہ یہ ڈیوائس خون میں موجود اضافی گلوکوز کو گلوکونیٹ میں تبدیل کرتی ہے جسے گردے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق وائرلیس ٹیکنالوجی سے چلنے والی اس ڈیوائس کو مسلسل شوگر مانیٹر کرنے والے نظام سے منسلک کیا گیا ہے جس نے چوہوں پر تجربات میں خودکار طور پر شوگر کنٹرول کرنے کے نتائج دکھائے۔ تجربات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ڈیوائس جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے استعمال کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے جس سے ذیابیطس اور موٹاپے کا بیک وقت علاج ممکن ہونے کی امید ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں 2.5 ارب سے زائد افراد ذیابیطس اور موٹاپے کے مشترکہ مسئلے سے متاثر ہیں۔ موجودہ علاج میں انسولین اور ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جن کے بعض مضر اثرات بھی سامنے آتے ہیں۔ تاہم، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نئی ڈیوائس ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج چوہوں پر حاصل کیے گئے ہیں، انسانوں میں اس کی افادیت اور حفاظت ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے۔

