پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دے سکتا ہے: احسن اقبال

پی ایس ای بی اور ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز نے دونوں ممالک کے وزراء، صنعتی تنظیموں اور معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، جہاں چھ اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں، کاروباری تعاون اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور روس نے آج ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے دونوں ممالک کی کمپنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں حکومتوں کے درمیان قائم اعتماد کو کمپنیوں کے درمیان کاروباری معاہدوں میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان اور روس کے درمیان آئی ٹی تعاون کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ ویبینار، پاکستان-روس ویبینار سیریز کا تیسرا حصہ تھا۔ اس کا انعقاد وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ماتحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) نے ماسکو کی یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز (UWCM) کے اشتراک سے کیا۔ ویبینار وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، اسلام آباد میں منعقد ہوا، جبکہ روسی مقررین نے ماسکو سے آن لائن شرکت کی۔ ویبینار کا بنیادی موضوع ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، نئی منڈیوں تک رسائی اور مشترکہ حل کی تیاری تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کی نمایاں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور صنعتی تنظیموں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ اپنی مہارت، کاروباری ضروریات اور تعاون کے ممکنہ مواقع پیش کر سکیں۔ ویبینار میں چھ اہم شعبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جن میں مصنوعی ذہانت (AI) اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی اور اہم ڈیجیٹل نظاموں کا تحفظ، ڈیجیٹل گورننس اور عوامی ڈیجیٹل سہولیات، آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی تجارت و سرمایہ کاری، کاروباری اداروں کے درمیان تعاون، ڈیجیٹل مہارتوں اور افرادی قوت کا تبادلہ، اور کوانٹم کمپیوٹنگ شامل ہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹیکنالوجی پاکستان کی معاشی ترقی اور تبدیلی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے اور اس شعبے میں پاکستان اور روس کے درمیان تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاکستان-روس آئی ٹی تعاون ویبینار سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے منصوبے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت ای-پاکستان پانچ اہم ترجیحی شعبوں میں شامل ہے، جس کا مقصد 2035 تک ملکی معیشت کو ایک ہزار ارب ڈالر کی سطح تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور روس کو روایتی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی مشترکہ منصوبوں، کاروباری تعاون اور عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی مصنوعات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں دستیاب باصلاحیت افرادی قوت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ہر سال 75 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس تیار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے 2030 تک دس لاکھ مصنوعی ذہانت کے ماہرین تیار کرنے کے ہدف اور تحقیق، جدت اور صنعت کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے سات نئے اے آئی مراکز کے قیام کا بھی ذکر کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نادرا کا ڈیجیٹل شناختی نظام عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے فوری ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کے ذریعے ایک سہ ماہی میں 64 کروڑ 60 لاکھ ٹرانزیکشنز مکمل کی گئیں، جو ڈیجیٹل جدت اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس کی سائنسی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں مضبوط بنیادیں اور پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت اور عالمی سطح پر آئی ٹی خدمات فراہم کرنے کا تجربہ، دونوں ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی فائدے کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بات چیت کو عملی معاشی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ قابلِ عمل کاروباری تعاون، مشترکہ منصوبوں، نئی منڈیوں تک رسائی اور آزمائشی منصوبوں پر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کی کامیابی کا اصل پیمانہ تجارت، سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکنالوجی پاکستان اور روس کے دیرینہ تعلقات میں تعاون کا ایک نیا اور اہم باب ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی صنعت کی یہ پیش رفت مضبوط معاشی کارکردگی سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات ریکارڈ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔ اب پاکستان اس شعبے میں نئی منڈیوں، نئے کاروباری رابطوں اور زیادہ قدر کی حامل خدمات کے فروغ پر توجہ دے رہا ہے۔ روسی فیڈریشن کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ، محترمہ بیلا چرکیسووا نے روس کی جانب سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان اور روس کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کے حوالے سے پالیسی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ روسی فیڈریشن میں پاکستان کے سفیر، سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا:’’پاکستان اور روس کے تعلقات اب زیادہ مضبوط اور وسیع نوعیت کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجارت ہمارے معاشی تعلقات کا ایک نیا اہم ستون بن سکتی ہے۔ ماسکو میں ہمارا سفارتی مشن روسی منڈی میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے پی ایس ای بی کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔‘‘ پاکستان کی آئی ٹی صلاحیتوں اور کاروباری تعاون کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے پی ایس ای بی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، فیصل جڈی نے کاروباری رابطے سے عملی معاہدے تک پہنچنے کا ایک واضح طریقہ کار پیش کیا۔ اس میں پہلے کاروباری مواقع کی نشاندہی، پھر موزوں کمپنیوں کا انتخاب، مشترکہ آزمائشی منصوبے پر اتفاق اور دونوں جانب رابطہ افسران کی نامزدگی شامل ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کاروباری تعاون اکثر ارادوں کی کمی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوتا بلکہ اس پر مسلسل پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے۔ پی ایس ای بی اسی خلا کو پُر کرنا چاہتا ہے۔ آج کے ویبینار میں شریک ہونے والی ہر کمپنی کے پاس ایک واضح کاروباری موقع، دوسری جانب ایک نامزد رابطہ کار اور آئندہ کا طے شدہ لائحہ عمل ہوگا۔ پی ایس ای بی اس عمل میں ان کے ساتھ رہے گا تاکہ یہ بات چیت عملی کاروباری معاہدوں میں تبدیل ہو سکے۔‘‘ ویبینار کے دوران صنعتی شعبے سے متعلق مختلف سیشنز میں ان تجاویز کو مزید عملی شکل دینے پر گفتگو کی گئی۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سویلائزیشنز کی ڈاکٹر روکسولانا زیگن کی زیرِ صدارت ایک سیشن میں روسی سافٹ ویئر انڈسٹری کی تنظیم RUSSOFT کے صدر مسٹر ویلنٹن ماکاروف اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے چیئرمین ڈاکٹر شعیب احمد خان نے دونوں ممالک کی سافٹ ویئر انڈسٹریز کے درمیان تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے روابط مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارینا سیرینکو نے ڈیجیٹل معیشت کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم اور امید افزا شعبہ قرار دیا۔ پی ایس ای بی کے شاہباز حمید کی زیرِ صدارت ایک اور سیشن میں ایبرکس (Ebryx) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احرار نقوی، پازیٹو ٹیکنالوجیز (Positive Technologies) کے ریجنل چیف ایگزیکٹو آفیسر یگور ریکوف، ٹی ایم سی (TMC) کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر عبدالحمید اور روسی کوانٹم سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر الیکسی اکیموف نے شرکت کی۔ اس سیشن میں سائبر سیکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مالیاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ مصنوعات اور خدمات کی تیاری اور پاکستان، روس سمیت دیگر ممالک کی منڈیوں میں مل کر کام کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، مسٹر ضرار ہاشم خان نے کہا: ’’آج کی نشست نے ہمیں محض خیر سگالی سے بڑھ کر ایک اہم پیش رفت دی ہے۔ ہم نے سائبر سیکیورٹی، انٹرپرائز سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ایسے واضح کاروباری مواقع کی نشاندہی کی ہے جن پر دونوں ممالک کی کمپنیاں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب وزارت کا کردار ان منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ اس میں نئی منڈیوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی، ضابطہ جاتی امور میں سہولت اور دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی کمپنیوں کو بہتر مواقع اور نمایاں مقام دلانا شامل ہے، تاکہ مشترکہ آزمائشی منصوبوں کا آغاز بلا تاخیر ہو سکے۔ ہم پی ایس ای بی اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ ان منصوبوں پر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں گے، کیونکہ ایک بار رفتار کم ہو جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘