اہم تعیناتی کا پی ٹی آئی لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں: شاہ محمود

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان غلط سمت میں جارہا ہے، عوام نے عمران خان کا بیانیہ قبول کرلیا ہے، اہم تعیناتی کا پی ٹی آئی لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں۔
گجرات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کی سربراہی میں نیشنل سیکیورٹی پالیسی مرتب کی گئی، ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ انتخابات ہیں۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا ہمارے مارچ سے کوئی تعلق نہیں، وہ ایک آئینی مدت ہے جس کا اختتام ہونا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارے مارچ کا ایک نکاتی ایجنڈہ ہے کہ ملک میں نئے شفاف انتخابات ہوں، ہم سنجیدہ طبقے کو بتا رہے ہیں کہ مسائل کا حل نئے انتخابات ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنا مدعا اعلیٰ عدلیہ کے سامنے رکھ رہے ہیں، ہماری پٹیشن چار نکات پر مشتمل ہوگی، پہلا نکتہ سینیٹر اعظم سواتی کو انصاف فراہم کیا جائے، دوسرا نکتہ ارشد شریف کے حوالے سے ہے، قوم جاننا چاہتی ہے کہ ارشد شریف کے ساتھ کیا ہوا، ارشد شریف کا لیپ ٹاپ کس کے پاس ہے؟
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا تیسرا نکتہ سائفر ہے، جس پر پی ٹی آئی کا نکتہ نظر واضح ہے، سائفر کے بعد عدم اعتماد اور پھر سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا، چوتھا نکتہ یہ ہے کہ کیا ایک شخص جس کا بیٹا شہید ہوا، کیا انہیں اپنی مرضی کی ایف آئی آر کا حق نہیں، پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کاغذ کا ٹکڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی پریشان ہے، روپیہ گرتا چلا جا رہا ہے، اس سے پاکستان کا بے پناہ نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے حقیقی آزادی مارچ کو جاری رکھنے کا بڑا فیصلہ کیا۔