میری زندگی کو اب بھی خطرہ ہے: عمران خان

چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نےغیرملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیر آباد قاتلانہ حملے کے بعد بھی ان کی جان کو خطرہ ہے۔
غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کے دوران 3 نومبرکو وزیرآباد میں خود پرقاتلانہ حملے سے متعلق ردعمل کا اظہارکیا۔
چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایک بار پھراس حملے کا الزام وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ رانا ثناء اور ایک سینیئر افسر پرعائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر میری پارٹی کی مقبولیت سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
خود پردوبارہ قاتلانہ حملے کا خدشہ ظاہر کرنے والے چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ مستقبل میں مجھ پر دوبارہ حملہ کیا جا سکتا ہے،: ”وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے راستے سے ہٹانے کا واحد طریقہ قتل کرنا ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ مجھے اب بھی جان کا خطرہ ہے“۔
عمران خان نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ حملہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ اور ایک سینئر افسر کی جانب سے رچائی گئی سازش تھی۔
عمران خان نے قاتلانہ حملے کی تحقیقات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آزادانہ تحقیقات کیلئے صرف چیف جسٹس سپریم کورٹ پراعتماد کرتے ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کسی بھی دوسری تحقیقات کو سبوتاژ کریں گے۔
عمران خان نے کہا کہ انہیں جان کا خطرہ ہے لیکن پھر بھی حکومت مخالف مارچ میں دوبارہ شامل ہونے کا عزم ظاہرکیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ”مزید احتیاطی تدابیر“ اختیار کریں گے، واحد حل آزادانہ اورمنصفانہ انتخابات ہیں اور ہماری پارٹی کی جیت یقینی ہے۔