خواتین کے خلاف تشدد دنیا بھر میں کی جانے والی انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ تشدد سے خواتین کی زندگیوں اور صحت و سلامتی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں 32 فیصد خواتین کو تشدد کا سامنا رہاہے۔ ان میں سے نصف خواتین نے کبھی مدد نہیں مانگی اور نہ ہی کسی کو…
صنف کی بنیاد پر تشددحقیقی دنیا سے لے کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک، جسمانی، جنسی، نفسیاتی اور آن لائن تشدد سمیت مختلف خوفناک شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ ہر قسم کا تشدد متاثرہ خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے، اور ان میں اضطراب ، افسردگی ، خودکش خیالات یا طرز عمل ، اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تشد د کا سامنا کرنے والے افراد اپنی انفرادیت ، وقار ، یا عزت ِ نفس کا احساس کھو سکتے ہیں۔
موجودہ دور میں تشدد کی سب سے عام قسم ’ڈیجیٹل تشدد‘ یا خواتین اور لڑکیوں کا آن لائن دنیا میں ہونے والا استحصال ہے۔ ڈیجیٹل تشدد میں آن لائن جنسی ہراسانی ، ڈرانا دھمکانا اور دوسروں کی تصاویر اور ویڈیو کا اُن کی رضامندی کے بغیر منفی استعمال شامل ہے۔ عالمی سطح پر 85 فیصد خواتین نے ڈیجیٹل تشدد کا مشاہدہ کرنے کی اطلاع دی ہے، اور تقریبا 40 فیصد کو ذاتی طور پر اس کا تجربہ ہوا ہے۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر خواتین سے نفرت انگیز اور توہین آمیز سلوک ان میں طویل مدتی نفسیاتی ، جذباتی اور جسمانی پریشانی اور اضطراب کا سبب بنتا ہے۔
عالمی اعداد و شمار کے مطابق دس میں سے نو عورتوں (92٪) کا کہنا تھا کہ آن لائن تشدد ان کی صحت و سلامتی کے احساس کو نقصان پہنچاتا ہے اور ایک تہائی سے زائد (35٪) عورتوں کو آن لائن تشدد کی وجہ سے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا رہا ۔ ڈیجیٹل تشدد پیشہ ورانہ امور اور روزگار کے لیے آن لائن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انحصار کرنے والی خواتین اور لڑکیوں کے کام پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔
چاہے جہاں کہیں بھی ہوں، تمام جگہوں پر تحفظ کا احساس خواتین اور لڑکیوں کا حق ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر صنفی بنیادوں پر تشدد کے خلاف ایک 16 روزہ مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہر کوئی اس بات پر غور کرے کہ صنفی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس مہم کے ذریعے یو این ایف پی اے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر صنفی بنیاد پر تشدد، کم عمری کی شادیوں اور دیگر نقصان دہ رویوں کے خاتمے کے لیے آگاہی کے فروغ، حمایت کے حصول اوردیگر عملی اقدامات کے ذریعے کوششیں کررہا ہے۔
یو این ایف پی اے 2030 تک صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے جس کے لیے ادارے کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کو ان کے جسم اور حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں؛ اور صنفی تشدد کے نقصانات کو اجاگر کرتے ہوئے مردوں اور لڑکوں کے رویوں کو تبدیل کرنے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ یو این ایف پی اےصنفی بنیادوں پر تشدد کی شکار خواتین کو طبی نگہداشت ، قانونی تحفظ اور نفسیاتی مدد میں معاونت کررہا ہے اور ساتھ ہی متاثرین کو مضبوط قانونی تحفظ مہیا کرنے کی حمایت کررہا ہے ۔

