دہشت کے سائے تلے سر اٹھاتا خطرہ

کراچی (سید طلعت ع شاہ) سی ٹی ڈی سندھ کے ہاتھوں کراچی کے علاقے حب ریور روڈ سے “ریڈ بک” کے سیریل نمبر 87 پر درج انتہائی مطلوب دہشت گرد اسماعیل سواتی ولد طوطی خان اور اس کے ساتھی زاہد اللہ کی گرفتاری نے جہاں ایک بڑے خطرے کو ٹالا ہے، وہی ریاست کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر کئی سوالیہ نشان بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ اسماعیل سواتی، جو تحریک طالبان سوات کے کمانڈر گل کمال خان کا دستِ راست اور پیر آباد میں ایک تاجر کے قتل اور بھتہ خوری میں ملوث رہا، کا دوبارہ کراچی میں متحرک ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ریاست کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ جاری طویل جنگ نے سیکیورٹی ڈھانچے کو اس قدر تھکا دیا ہے کہ مطلوب دہشت گرد سرحدوں اور صوبوں کے درمیان باآسانی نقل و حرکت کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ قریب ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ کالعدم تنظیمیں بشمول لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ اور دیگر مںسلک غیر کالعدم جماعتیں ایسے مواقع پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے اور بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ اسماعیل سواتی جیسے دہشت گرد و “فنڈ ریزرز” اور سہولت کاروں کی شہر میں موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز ایک بار پھر فعال ہو رہے ہیں۔ یہ وقت حکومت کے لیے محض دعووں کا نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کا ہے؛ بصورتِ دیگر، جنگ زدہ حالات اور محرم کے حساس ایام میں ٹی ٹی پی اور اس کے ہم نوا گروہ ریاست کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتے ہیں۔ ریاست کو اب اپنی دفاعی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں