وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ پانی ہماری ریڈلائن ہے اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹرمعیزو موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مختلف شعبوں میں مضبوط ہوئے، اقتصادی تعاون، تجارت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پرتبادلہ خیال کی گیا، مالدیپ کے طلبہ کی بڑی تعداد پاکستانی اداروں میں زیر تعلیم ہے جب کہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں انسانیت کی خدمات کررہاہے، برادرملک کی حیثیت سے مالدیپ کی مزیدضروریات کوبھی پوراکرکے خوشی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ مسئلہ فلسطین کی مکمل حمایت کرتا ہے، پاکستان بھی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کیلئے اصولی موقف کی حمایت جاری رکھے گا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا بھارتی فیصلہ ناقابل قبول ہے، عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدوں پر عملدرآمد تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے، پاکستان کا واضح موقف ہے کہ پانی ہماری ریڈلائن ہے اور پاکستان کا پانی روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی۔ اس موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹرمعیزو نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 60 سال باہمی تعاون پر مبنی ہیں، تعلیم، صحت اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کوبڑھائیں گے۔ ڈاکٹرمعیزو نے مزید کہا کہ پاکستان، مالدیپ بزنس فورم میں تجارتی واقتصادی تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت وفود کےتبادلوں کو وسعت دیں گے، اے آئی، ڈیجیٹائزیشن سمیت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی ضرورت ہے۔

