قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے اپنے کرکٹ کے سفر کے دوران آنے والی مشکلات اور چیلنجز پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے راولپنڈی کی گلیوں سے کھیلنا شروع کیا تھا، والد سے بہت مار کھائی لیکن اپنے شوق سے پیچھے نہیں ہٹے۔ کرکٹ سے متعلق مشہور ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو نے حارث رؤف کی کرکٹر بننے سے قبل مشکلات سے بھری زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔ حارث رؤف پاکستان کے شہر راولپنڈی کے رہائشی ایک ویلڈر کے گھر پیدا ہوئے اور وہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ دستاویزی فلم میں حارث رؤف نے کرکٹر بننے سے قبل اپنی زندگی کے مشکل حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ کھیلنے کے لیے میں نے اپنے ابو سے بہت مار کھائی ہے، کرکٹ کھیلنے پر میں نے ابو سے تین تین بار بھی مار کھائی ہے لیکن پھر بھی میں کرکٹ کھیلتا تھا۔ انٹرویو میں حارث رؤف نے انکشاف کیا کہ ’میٹرک کے بعد ہر اتوار کو بازار میں نمکو بیچنے کا کام کرتا تھا، بعدازاں ٹیپ بال کھیل کر یونیورسٹی کی فیس ادا کی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو میرے والد کی اتنی کمائی نہیں تھی کہ وہ میری فیس ادا کرسکیں، لیکن ٹیپ بال کھیل کر فی سمسٹر 70 سے 80 ہزار فیس ادا کرلیتا تھا۔ ’ حارث رؤف نے کہا کہ ’جو لڑکے پاکستان میں پروفیشنل ٹیپ بال کھلتے ہیں وہ ماہانہ ڈھائی لاکھ تک آسانی سے کما لیتے ہیں، میں نے بھی ایسا ہی کیا، کچھ کمائی اپنی والدہ کو دیتا اور کچھ اپنے پاس رکھتا کہ مستقبل میں کام آسکے لیکن والد کو اپنی کمائی کے بارے میں کبھی نہیں بتایا تھا۔‘

