پاکستان نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بے ہودہ اور اشتعال انگیز اسلامو فوبیا پر مبنی فعل ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سویڈن میں ترک سفارتخانے کے باہر ایک احتجاج کے دوران قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اور اسے نذر آتش کیا گیا،…
ترکی نے واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے سویڈش وزیر کا دورہ بھی منسوخ کردیا۔
ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا گھناؤنا فعل قابل مذمت ہے، یہ بے ہودہ اور اشتعال انگیز اسلامو فوبیا پر مبنی فعل ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے سے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا ہے، ایسی کارروائیوں کا آزادی اظہار رائے سے کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان نے مزید کہا ہے کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسلام امن کا مذہب ہے اور پاکستان سمیت دنیا کے مسلمان تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔
ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی براداری کو اِن اصولوں کی مکمل حمایت کرنی چاہئے، عالمی برادری کو اسلاموفوبیا، زینوفوبیا اور عدم برداشت کیخلاف یکسان مؤقف اختیار کرنا چاہئے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مذہب اور عقائد کی بنیاد پر تشدد کے خلاف بھی مل کر کام کرنا ہوگا، قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے پر سویڈن کے حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان کی مذمت
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول اقدام قرار دیا ہے ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دائیں بازو کے ایک انتہا پسند کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھنائونے فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
No words are enough to adequately condemn the abhorrable act of desecration of the Holy Quran by a right-wing extremist in Sweden. The garb of the freedom of expression cannot be used to hurt the religious emotions of 1.5 billion Muslims across the world. This is unacceptable.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) January 22, 2023
انہوں نے مزید کہا کہ آزادی اظہار کے لبادہ کو دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، یہ اقدام ناقابل قبول ہے ۔






