وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کا یہ 41 واں اجلاس ہے جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وزیر دفاع، خزانہ، خارجہ، داخلہ اور وزیر اطلاعات شریک ہیں۔
اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی، ڈی جی ایم آئی اور ڈی جی ایم او سمیت دیگر عسکری اور سویلین حکام بھی شریک ہیں۔
جب کہ اجلاس میں کمیٹی ممبران اور چاروں وزرائے اعلیٰ بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا، جس میں خالد مقبول صدیقی ،اسلم بھوتانی، خالد مگسی، خرم دستگیر، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ و دیگر رہنما شریک ہوئے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں موجودہ سیاسی و عدالتی صورتحال پر تبادلہ خیال شامل ہے۔ وزیراعظم پارلیمانی رہنماؤں کو آئندہ کی حکمت عملی پر اعتماد میں لیں گے۔ اہم اجلاس میں خطے کی صورتحال، پاک امریکا تعلقات پر غور کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں اجلاس میں ایران، افغانستان اور بھارت سمیت علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایران سعودی عرب تعلقات کی بحالی میں چین کے کردار پر بھی بات چیت اور ملکی معاشی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔






