وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا رکن ہے بھکاری نہیں۔ آئی ایم ایف میٹنگ میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کنفیوژن پھیلائی جا رہی ہے آئی ایم ایف میٹنگ میں کیوں نہیں جا رہا، پیر کو سالانہ میٹنگ میں شریک ہونا تھا، وزیراعظم کی ہدایت پر دورہ امریکا کو…
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ملک میں آئینی بحران پیدا کردیا گیا ہے، سپریم کورٹ بینچ کا ایک فیصلہ میدان میں ہے، حکومت کو 21ارب الیکشن کمیشن کو پنجاب الیکشن کیلئے دینے کا کہا گیا ہے، حکومت کو10اپریل تک پیسے دینے کا پابند کیا گیا، ہم بطور قوم ایک بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود کوئی ایک بھی بین الاقوامی ادائیگی ایک منٹ بھی لیٹ نہیں کی، پاکستان نے 11 ارب ڈالر کی عالمی ادائیگیاں کی ہیں ، آئی ایم ایف کی جتنی کیوریز آئیں سب کا تسلی بخش جواب دیا ہے، آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہونے والا ہے، ایک دوست ملک آئی ایم ایف کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کی تصدیق کر چکا ہے اور ایک دوست ملک کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی تصدیق کا انتظار ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا اہم قومی معاملات پر لوز ٹاک اور لوز تجزیہ مناسب نہیں ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ مجھے آئی ایم ایف نے منع کر دیا ہے، مجھے آئی ایم ایف منع نہیں کر سکتا، پاکستان آئی ایم ایف کا ممبر ہے بھکاری نہیں ہے۔






