سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر ترامیم 2023 سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی گئی، وکیل محمد حسین کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ رولز بنانے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہی حاصل ہے،سپریم کورٹ کے حوالے سے کی گئی قانونی سازی بدنیتی پر مبنی ہے۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر مجوزہ ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا ہے کہ آرٹیکل 70 کے تحت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود نہیں کیے جا سکتے، پارلیمان کا منظور کردہ ایکٹ آرٹیکل 191 کے بھی منافی ہے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجرترامیم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے، وکیل سعید آفتاب نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزار نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر مجوزہ ایکٹ کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا ہے کہ اپیل کا حق چیف جسٹس کے اختیارات میں کمی لائے بغیر دیا جا سکتا تھا، اور ہائی کورٹ کی طرز پر انٹرا کورٹ اپیل کا حق دیا جا سکتا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپیکرقومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیرصدارت ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ ریگولیشنز بل پیش کیا تھا جسے پارلیمان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
اس سے قبل صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ پروسیجر اینڈ ریگولیشنز بل پر دستخط کیے بغیر پارلیمنٹ کو واپس بھجوا دیا تھا تاہم اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کے بعد بل کو دستخط کے لئے دوبارہ صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔ اگر صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو 10 دن بعد یہ بل خود ہی قانون بن جائے گا۔






