ٹی ٹی پی آج بھی پاکستان کخلاف حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے: وزیر دفاع

وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) آج بھی پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے، افغان طالبان حکام پاکستان پر حملوں میں اپنی سرزمین کے استعمال کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آبادکےکابل میں حکمران طالبان رہنماؤں سے اچھے تعلقات ہیں لیکن افغان طالبان حکام پاکستان پر حملوں میں اپنی سرزمین کے استعمال کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے، کالعدم ٹی ٹی پی آج بھی پاکستان بالخصوص خیبرپختونخواپرحملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کررہی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے ہمراہ افغانستان کے ایک ماہ پہلے دورے میں یہ معاملہ زیربحث آیا تھا اور طالبان نے اس مسئلے سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، طالبان کا کہنا تھا وہ اپنی زمین دہشتگردی کے لیے کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، افغان طالبان اورکالعدم ٹی ٹی پی فاصلہ چاہتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے عوام طالبان کے ساتھ ’ کو ایگزسٹ‘ کرنے کو تیار نہیں، بڑی قابل ذکر بات ہے کہ طالبان کی واپسی کے خلاف لوگ غیر مسلح احتجاج کر رہے ہیں، طالبان اپنی کامیابیوں کو خواتین پر پابندیوں کے ذریعے نقصان پہنچا رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کے پاس امریکا کے افغانستان کے اندر چھوڑے ہوئے جدید آلات بھی موجود ہیں جب کہ بھارت طالبان کی آج بھی مدد کر رہا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کے مؤقف میں تبدیلی آتی رہتی ہے، ان کے حالیہ بیانات سے سمجھ نہیں آتی وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومت کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں یا نہیں چاہتے ہیں، یہ جو اسد قیصر اور دیگر لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، یہ قومی ڈائیلاگ ہونے چاہئیں جس میں اسٹیبلشمنٹ بھی بیٹھے، میڈیا کی بھی نمائندگی ہو، سول سوسائٹی کے لوگ بھی ہوں،تبھی قومی مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔