جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا جاتا جس کا وہ مستحق ہے،آئین کسی ایک پارٹی کے لیے نہیں یہ کتاب سب کی ہے۔ ہم آئین کی تشریح کرسکتےہیں، جب ناانصافی ہوتی ہےتووہ زیادہ دیرتک نہیں ٹھہرتی۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہم آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی منارہےہیں، آئین پاکستان ہر شہری کیلئے ہے، 10 اپریل 1973 کو مشترکہ طور پر اسے اپنایا گیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ آئین 10اپریل 1973کو مشترکہ طور پر اپنایا گیا اور قوم کو پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جدوجہد کے بعد قائم ہوا، آزاد ی کے بعد ہمیں آئین کی ضرورت تھی، آئین میرے لیے صرف کتاب نہیں اس میں لوگوں کے حقوق ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا، اس کے بیج بوئے گئے۔ بویا گیا بیج جب پروان چڑھا اس نے پوری قوم کے ٹکڑے کر دیے،جو کام ہم آج کرنے بیٹھے ہیں، اس کے اثرات صدیوں بعد بھی نکلیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ نفرتوں کی وجوہات ہوتی ہیں، چھوٹی بات پر گھر برباد ہوجاتے ہیں،چھوٹی بات پر پانی نہ ڈالیں تو ایسے مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔






