ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے: چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے۔ سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
سپریم کورٹ میں عدالتی اصلاحات سے متعلق بل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ شکایات ججز کے خلاف آتی رہتی ہیں۔ مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں۔ انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاشا صاحب آپ نفیس آدمی ہیں ، اپنے ارد گرد سے معلوم کرائیں آپ کے لوگ کس کو فل کورٹ کہتے ہیں ۔ سپریم کورٹ بار نے ادارے کا تحفظ کرنا ہے۔ ججز نے آنا ہے اور چلے جانا ہے ۔ اگر سپریم کورٹ کے ججز کو احترام دینے کے بجائے انتخاب کیا جاتا تو پھر آپ انصاف نہیں چاہتے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 7 سینئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے۔ افتخار چوہدری کیس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں۔ کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کو کام کرنے سے نہیں روک سکتا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کے اختیار سے متعلق وفاقی فہرست کی کچھ حدود و قیود بھی ہیں۔ فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں۔ یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے۔ الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مقدمے پر فریقین سے سنجیدہ بحث کی توقع ہے۔ لارجر بینچ کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہو گی۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہے ۔ یہ ریاست کے تیسرے ستون کے بارے میں ہے۔