حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کی تیسری بیٹھک میں ملک میں ایک ہی دن الیکشن پر اتفاق کرلیا گیا تاہم اسمبلیوں کی تحلیل اور انتخابات کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوسکا، تحریک انصاف کی جانب سے حکمران اتحاد کوعیدالاضحی اورمحرم الحرام کےدرمیان کے ایام میں انتخابات کرانےکی تجویزدی گئی ہے۔
حکمران اتحاد اور تحریک انصاف میں ملک بھرمیں ایک ہی روزالیکشن کرانے پراتفاق رائے کیلئے مذاکرات کا تیسرا دور ہوا۔ حکومت کی جانب سے وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وفاقی وزیرایازصادق جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی، سید نوید قمر، ایم کیو ایم کی کشورزہرہ مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں جبکہ تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی میں شاہ محمود قریشی، فواد چودھری اور سینیٹرعلی ظفر شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے تیسرے دورمیں ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی تجویزمیں کہا گیا ہے کہ اگست کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں الیکشن ہوسکتے ہیں۔پی ٹی آئی کا اپنی تجاویز کا مسودہ سپریم کورٹ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ٹی آئی وکلاء کےذریعےاپنی تجاویزکامسودہ سپریم کورٹ کی بھجوائےگی۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات سےقبل فریقین نےعمران خان اورنوازشریف سے تفصیلی مشاورت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد اورپی ٹی آئی نےاپنی تحریری تجاویزکاتبادلہ کرلیا،پی ٹی آئی نے8 نکاتی تجاویزکامسودہ حکمراں اتحادکےحوالے کیا۔
مذاکرات کے بعد حکمران اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں فریقوں نے تجاویز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔اس بات پراتفاق ہے کہ ملک بھر ایک ہی روز الیکشن ہوں، اوریہ بھی اتفاق ہے کہ الیکشن نگران سیٹ اپ کے تحت ہوں گے،دونوں فریقوں نے مثبت سوچ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں حصہ لیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ آج کے مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے،الیکشن کی تاریخ پردونوں طرف سےلچک دکھائی گئی ہے،الیکشن کی تاریخ پردونوں گروپس کی اپنی اپنی تاریخیں ہیں،اتفاق ہےکہ ایک دن الیکشن ہوتونگراں حکومتیں ہونی چاہئے اور جب بھی الیکشن ہوں گے نگراں حکومتیں ہوں گی،ایک وقت الیکشن کا مقصد ہے کہ انگلیاں نہ اٹھیں،پی ٹی آئی اپنی قیادت سےدوبارہ بات کرے گی۔
اس موقع پرحکمران اتحاد کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں اطراف سے فریقین نے لچک دکھائی، مذاکرات کے دوران اس بات پرغورکیا گیا کہ جو بھی نتائج آئیں گے فریق اسے تسلیم کرے گایہ نہ ہو کہ بعد میں پورے ملک میں قیاس ہومجھے بہت دکھ ہوا کہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ بیمار تھیں، ہم ان کے لیے دعا گو ہیںاگلی نشست جلدی ہو گی۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر کسی بھی چیز کے حل کے لیے وقت چاہیے تو ہم حکومت کو وقت دینے کے لیے تیار ہیں، پاکستان تحریک انصاف نے مثبت سوچ سامنے رکھتے ہوئے اپنی آمادگی کا بھی اظہار کیا، عمران خان نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی، جو مذاکرات کر رہی ہے، مذاکراتی کمیٹی میں فواد چودھری ، سینیٹر علی ظفر اور میں خود اس کا حصہ ہوں، پی ڈی ایم الائنس نے بھی اپنی کمیٹی تشکیل دی ،اس کمیٹی میں جمعیت علمائے اسلام ف نے شرکت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تین نشستیں ہوئیں، پہلی نشست 27 اپریل کو ہوئی، دوسری نشست 28 اپریل کو ہوئی، تیسری نشست آج ہوئی،تحریک انصاف نے پوری کوشش کی کہ کسی اتفاق کی طرف بڑھ سکیںہم نے اتفاق کیا جو بھی مذاکرات ہوں گے وہ آئین کے تحت ہوں گے،اس مذاکراتی عمل میں تعطل نہیں آئے گا، کوئی بھی اسے تاخیری حربے کے طور پر استعمال نہیں کرے گا اور نہ ہونا چاہیےاور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ 4 اپریل کے سپریم کورٹ کے فیصلےپر عمل کرنا چاہیے، فیصلہ آئینی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری تجویز تھی کہ حکومتیں ختم ہونے کے بعد نگران حکومتیں 90 روز کے اندر الیکشن کروائیں گی،جو آئین میں درج ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب میں 14 مئی کو الیکشن ہوں اس کے لیے ہم مطمئن ہیں، اور پھر اس کے بعد خیبرپختونخوا میں الیکشن وقت پر ہوں،پی ڈی ایم نے تجویز دی کہ جو الیکشن ہیں وہ ملک بھر میں بیک وقت ہوں اوراسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ تمام باتوں پر حکومت کے ساتھ تحریک انصاف نے سیر حاصل مذاکرات کیےاس دوران ہم نے ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش بھی کی اور نقطہ نظر بھی سمجھنے کی کوشش کی ،ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ قومی اسمبلی، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں 14 مئی سے قبل تحلیل کی جائیں اور اسی دوران ملک بھر میں 60 روز کے اندر الیکشن ہونے چاہئیںاور اس کے لیے ہمیں آئینی طور پر کور دینا ہو گا ،اس کے لیے تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس جانے کے لیے تیار ہےاور اس کے آئینی ترمیم پر بھی ساتھ دینے کو تیار ہیں،ہم چاہتے ہیں جو ہماری حکومت کے ساتھ انڈرسٹیڈنگ ہو وہ تحریری طور پر ہو اور ہم اس ڈارفٹ کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔






