مذاکراتی عمل کو تاخیری حربوں کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے: شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کو تاخیری حربوں کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کے درمیان مذاکرات کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کی تاریخ پر ہمارا پی ڈی ایم کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا۔ ہماری دوسری نشست کے دوران 33 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہم نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ لوگوں کو گرفتار نہ کیا جائے اور مذاکرات ساز گار ماحول میں ہونے چاہیئیں۔
انہوں ںے کہا کہ اس مذاکراتی عمل کو تاخیری حربوں کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے اور ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ الیکشن آئین کے مطابق ہوں جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 روز میں الیکشن آئین کی پابندی ہے اور ہم چاہتے ہیں 14 مئی کو انتخابات ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دوسری نشست کے خاتمے کے بعد ہم واپس لاہور پہنچے تو بریکنگ نیوز مل گئی کہ پرویز الہٰی کے گھر میں چھاپہ مارا گیا۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان نے 3 رکنی ٹیم بنائی اور ہمیں پی ڈی ایم کے ساتھ مذاکرات کے لیے کہا اور سپریم کورٹ نے یہ تجویز دی تھی کہ سیاسی جماعتیں بیٹھ کر کوئی راستہ نکال لیں۔ ہماری 3 نشستیں ہوئیں اور مثبت سوچ کو مدنظر رکھ کر پی ٹی آئی نے 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ میں، بیرسٹر علی ظفر اور فواد چودھری کو یہ ذمہ داری سونپی گئی اور پی ڈی ایم اتحاد نے بھی کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ کمیٹی میں فضل الرحمان کی جماعت مذاکرات کے لیے راضی نہیں تھی۔