امت کودرپیش مسائل کےحل کی خاطرعربوں کا تاریخی اتفاق رائے،اعلامیہ جاری

جدہ(مائی نیوز)سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقدہ 32 واں عرب لیگ سربراہی اجلاس ختم ہو گیا ہے، اجلاس میں امت کو درپیش مسائل کے حل کی خاطر عربوں کا تاریخی اتفاق رائے دیکھنے میں آیا۔سربراہی اجلاس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں شرکا نے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو عرب دنیا کا بنیادی مسئلہ قرار دیا، اور شامی بحران کے حل، سوڈان سے یک جہتی، یمن میں سعودی انیشیٹو کی حمایت پر زور دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے اتحاد کی ضرورت کا اعادہ کیا گیا، مسئلہ فلسطین، سوڈان، یمن، لیبیا، لبنان و دیگر موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس اجلاس میں شام نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار شرکت کی۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں تمام عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین کی مرکزیت کا اعادہ کیا، اور کہا کہ بیت المقدس سمیت 1967 میں اسرائیلی قبضے میں لیے گئے عرب علاقوں پر فلسطین کو مکمل اختیار دیا جائے، ’’عرب امن اقدام‘‘ کو فعال کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ ’’اسرائیل فلسطینی تنازع کئی مہینوں سے شدت اختیار کر رہا ہے، مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چھاپوں، آبادکاروں کے تشدد، اور فلسطینی حملوں میں اضافہ ہوا، جنوری سے اب تک مغربی کنارے، اسرائیل میں 140 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے۔‘‘سوڈان میں 15 اپریل سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسزمیں لڑائی جاری ہے، اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سوڈان میں تنازعات کو ہوا دینے والی غیر ملکی مداخلتوں کو مسترد کیا گیا، اور متحارب فریقوں کے درمیان بات چیت اور اتحاد پر زور دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں