کیا میٹھے مشروبات گنج پن کی وجہ بن سکتے ہیں؟

گنج پن کی ایک کیفیت ایسی ہوتی ہے جس میں مخصوص حصوں سے بال غائب ہوجاتے ہیں اور اب ماہرین نے میٹھے مشروبات اور اس طرح کے گنج پن کے درمیان مضبوط تعلق دریافت کیا ہے۔
سر کی اطراف، درمیانی حصے یا اگلے رخ سے بال گرنے کا عمل ’میل پیٹرن ہیئرلاس‘ (ایم پی ایچ ایل) کہلاتا ہے۔ ماہرین نے مغربی طرزکی غذاؤں اور اس کیفیت کے درمیان غور کیا تو معلوم ہوا کہ جوس، سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور دیگر شیریں مشروبات سے اس طرح کے گنج پن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس طرح کی کیفیت کے دیگر عوامل بھی ہوسکتی ہے جن میں ڈپریشن، بے خوابی، غذا اور جینیات بھی شامل ہیں تاہم میٹھے مشروبات بھی اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے چین میں کئے گئے ایک سروے میں 1951 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی عمریں 18 سے 45 سال تھیں۔ تمام افراد مجموعی طور پر 31 صوبوں میں رہ رہے تھے۔ اس میں شرکا کو ازخود ایک آن لائن فارم بھرنے کو کہا گیا جن میں میٹھے مشروبات کے استعمال اور گنج پن کے متعلق پوچھا گیا تھا۔
ماہرین نے اس میں شکر، گلوکوز اور اس کے پولیول پر اثرات کا جائزہ لیا تھا۔ پولیول پاتھ وے یا کیمیائی راستہ متاثر ہوتا ہے۔ اس سے قبل میٹھے مشروبات اور چوہوں کے بال میں کمی کی کئی تحقیقات سامنے آتی رہی ہیں۔ سروے میں جن افراد نے زیادہ میٹھے مشروبات استعمال کئے جو کئی سال سے اس کی عادت میں مبتلا ہیں۔ ان لوگوں کے بال باریک تھے اور تیزی سے گر رہے تھے۔
طبی سائنس کے ان گنت سروے بتاتے ہیں کہ میٹھے مشروبات سے ذیابیطس، امراضِ قلب اور بلڈ پریشر کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اب یہ بالوں کے دشمن بھی ثابت ہوئے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت