جانئیے، دانتوں کی سفیدی بحال کرنے میں مددگار آسان طریقے

سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ اگر آپ بھی ایسا چاہتے ہیں تو ان آسان طریقوں کو فوری اپنالیں۔ دانتوں کی اچھی صفائیپہلے اور سب سے بڑھ کر دانتوں کی اچھی صفائی ہی انہیں زرد ہونے سے روک سکتی ہے، پلاک کا اجتماع دانتوں کی رنگت کو زردی مائل کردیتا ہے، تو برش کرنا، خلال اور ماﺅتھ واش کو کبھی نظرانداز مت کریں۔ اسی طرح وائٹننگ ٹوتھ پیسٹ بھی روزمرہ کے معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے پیسٹ کا انتخاب کریں۔ بری عادتوں سے چھٹکارہپلاک سے ہٹ کر دانتوں پر داغ یا اس کی اوپری سطح کے خاتم جو کہ سفیدی ختم کرتا ہے، وہ ہماری عام عادات ہیں، اگر آپ دانتوں کو سفید رکھنا چاہتے ہیں تو متعدد اشیاءکو خود سے دور رکھنا ہوگا، کافی، سافٹ ڈرنکس، پراسیس یا جنک فوڈ اور تمباکو نوشی وغیرہ۔ بیکنگ سوڈا سے صاف کرنااپنے باورچی خانے سے بیکنگ سوڈا کو نکال کر باتھ روم میں منتقل کردیں، یہ سفید سفوف جو کہ بیشتر ٹوتھ پیسٹس کا حصہ ہوتا ہے، قدرتی طور پر دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ چوتھائی چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا پانی میں ملائیں اور پھر اپنے دانتوں پر ٹوتھ برش کی مدد سے لگائیں۔ اس سے دانتوں کی سفیدی بتدریج بحال ہونے لگتی ہے اور اس کو معمول بنالینے سے کچھ عرصے میں دانت موتیوں کی طرح چمکنے لگتے ہیں۔ اسٹرابریز کا استعمالاسٹرابریز کے داغ ہوسکتا ہے کہ کپڑوں سے نہ ہٹ سکیں مگر دانتوں پر ان کا اثر بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اس پھل میں شامل مالیس ایسڈ قدرتی طور پر دانتوں کی صفائی بحال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، تاہم بس اس کو کھائیں اس کو دانتوں پر چپکنے نہ دیں کیونکہ اس سے دانتوں کی سطح کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نمکین گرم پانینمکین پانی نہ صرف دانتوں کو قدرتی طور پر صفائی میں مدد فراہم کرتا ہے بلکہ مسوڑوں کو صحت مند رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے لیے آپ ایک چائے کا چمچ نمک ایک کپ گرم پانی میں شامل کریں، پھر اسے ٹھنڈا کرکے ماﺅتھ واش کے طور پر استعمال کریں۔ پنیر کا استعمالپنیر بھی دانتوں کی صفائی کے لیے ایک زبردست قدرتی غذا ہے جو دانتوں کو مضبوط کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ پنیر میں کیلشیئم موجود ہوتا ہے اور اس میں سطح کی صفائی کا اسٹرکچر بھی شامل ہے خاص طور پر سخت پنیر میں جیسے شیڈر چیس وغیرہ۔ ناریل کے تیل کا استعمالایک چمچ ناریل کے تیل سے دانتوں کو دھو لیں کیونکہ یہ عمل انہیں داغ دھبوں سے بچاتا ہے۔ دانتوں کی صفائی کا یہ جس حد تک ممکن ہو دیر تک کریں خاص طور پر 15 منٹ مثالی وقت ہے، اس سے بیکٹریا کے خاتمے اور اس پر گندگی کو ہٹانے میں مدد ملتی ہے۔ دودھ کا زیادہ استعمالدودھ میں موجود کیلشیئم دانتوں کی سطح اور اسٹرکچر کو مضبوط کرتا ہے جبکہ جبڑوں کی ہڈی بھی مضبوط ہوتی ہے۔ تاہم دودھ کے ساتھ ساتھ لیموں پانی یا ٹانک واٹر بھی دانتوں کی جگمگاہٹ کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ پاپ کورنپاپ کورن کو صفائی والی غذا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، اس کے سخت کونے دانتوں پر سے بیکٹریا کو ہٹانے یا صفائی کا کام کرتے ہیں، اگر کسی وجہ سے رات کو آپ اپنے دانتوں پر برش نہیں کرسکتے تو کوشش کریں کہ آخری غذا کے طور پر پاپ کورن کی کچھ مقدار کھالیں۔ چیونگمچیونگم دانتوں کی صفائی میں اس طرح مدد کرتی ہے کہ وہ کونوں یا سوراخوں میں پھنس جانے والے ذرات کو نکال دیتی ہے، اس کے علاوہ یہ تھوک کی مقدار بڑھاتی ہے جس سے ایسا قدرتی ایسڈ دانتوں کی سطح کو ملتا ہے جو ان کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ تاہم چینی سے پاک چیونگم کا استعمال زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔ روزانہ ایک سیبسیب کو قدرت کا ٹوتھ برش بھی کہا جاتا ہے اور وہ دانتوں کی صفائی کے لیے ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں اگر کسی وجہ سے آپ دانتوں کی صفائی نہیں کرسکتے تو ایک سیب کو کھالیں جبکہ اس طرح کچی گاجریں یا کھیرا بھی بہترین متبادل ثابت ہوتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت