سیلاب کے باعث چاول کی برآمد میں کروڑوں ڈالرز کی کمی کا خدشہ

ملک بھر میں بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے باعث چاول کی برآمد میں کروڑوں ڈالرز کی کمی کا خدشہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث چاول کی برآمد میں 50 کروڑ ڈالر کمی کا خدشہ ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک گیر خوفناک سیلاب سے زراعت کو شدید نقصان پہنچا۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے پالیسی ریٹ کا استعمال کررہے ہیں۔۔ اقدامات کے اچھے نتائج چند ماہ بعد آنا تھے لیکن سیلاب آ گیا۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بریفنگ میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو آگاہ کر دیا جس کے باعث چاول کی برآمد میں 50 کروڑ ڈالر کمی کا خدشہ ہے۔ جب کہ کپاس کی درآمد چار ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
ڈپٹی گورنر نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک اُس وقت مارکیٹ میں مداخلت کرے گا جب غیرمعمولی سرگرمی ہو گی، آئی ایم ایف کے ساتھ بھی یہی معاہدہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں رکن کمیٹی رمیش کمار نے شکایت کی کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر ڈھائی سو روپے کا بھی نہیں مل رہا، اسٹیٹ بینک ایل سی کھولنے کی اجازت نہیں دے رہا۔
رمیش کمار نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم فوری طور پر وزارت خزانہ میں تبدیلیاں کریں اور اسحاق ڈار کو کسی کمیٹی کا سربراہ بنائیں۔
رکن کمیٹی علی پرویز ملک نے تجویز پیش کی کہ حکومت صرف 15 کروڑ روپے سالانہ نہیں، بلکہ اس سے کم آمدن والوں پر بھی سُپر ٹیکس عائد کرے اور رقم سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے۔
چیئرمین کمیٹی نے حمایت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ اس پر غور کرے۔