نگراں وفاقی کابینہ کی تشکیل کا پہلا مرحلہ مکمل، حلف برداری آج ہوگی

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے نگراں وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مشاورت مکمل کرلی جبکہ کابینہ کے اراکین آج جمعرات کو حلف اٹھائیں گے، مختصر کابینہ میں غیر جانبدار اور پروفیشل افراد کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نگراں کابینہ میں6بیوروکریٹ اور ٹیکنوکریٹ کے نام زیر غور ہیں، کابینہ میں متعلقہ شعبوں میں اچھی ساکھ کے حامل افراد کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نگراں وزیراعظم کابینہ کو محکموں کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیں گے، کابینہ انتخابات کے بروقت انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو مدنظر رکھے گی۔ ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ میں ٹینکو کریٹ اور قابل افراد کو شامل کیا گیا ہے جبکہ نگران کابینہ میں ڈاکٹر شمشاد اختر کو وز یر خزانہ ، وزیر صنعت و تجارت کیلئے گوہر اعجاز اور تابش گوہر کو وزیر توانائی کیلئے نامزد کیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نگران وفاقی کابینہ میں شامل تمام افراد انتہائی قابل، غیر متناز عہ ہیں اورانکا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں،نگران وفاقی کابینہ کے تمام ارکان ملکی ترقی کو مزید آگے لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کابینہ کے تمام ارکان آزاد اور منصفا نہ الیکشن کرانے میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران کابینہ میں وزارت اطلاعات کےلئے محمد علی درانی کا نام شامل نہیں، بلکہ وزارت اطلاعات سید محمد علی کو دیئے جانے کا امکان ہے جو ایک دفاعی تجزیہ کار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران کابینہ میں وزارت خارجہ کی ذمہ داری سابق سفارتکار جلیل عباس جیلانی کو سونپے جانے کا امکان ہے، وہ امریکہ میں پاکستان کےسابق سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے نگران وزیر خزانہ کےلئے گزشتہ روز سلطان علی الانہ کا نام فائنل کیا گیا تھا تاہم ان کی دوہری شہریت کی وجہ سے انہیں شامل نہیں کیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ نگران وزیر داخلہ کےلئے سرفراز بگٹی کا نام سامنے آنے کا غالب امکان ہے جس کی ایک وجہ ان کا سابق وزیر داخلہ ہونا بھی ہے۔