جنک فوڈ، فاسٹ فوڈ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ ایک قسم کی خوراک ہے جو صحت کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، اس کی شکر، نمکیات، کولیسٹرول، چربی کے زیادہ مواد کی وجہ سے، لیکن یہ کس طریقے سے نقصان دہ ہے؟ یہ کن بیماریوں سے متعلق ہے؟ آج کے دور میں فاسٹ فوڈ سب سے جدی تیار ہونے والا کھانا ہے جو کہ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلد آسانی سے کم وقت میں آرڈر پر دستیاب ہوتا ہے۔ دیگر دیسی کھانوں کے مقابلے میں ان کھانوں میں ایک تو غذایت کم ہوتی ہے دوسرا یہ گھر کے بنے عام کھانوں سے مہنگے بھی ہوتے ہیں۔ آج کل لوگ جلد اور کم وقت میں ہونے والی اشیاء کی طرف رجحان زیادہ بڑھا رہے ہیں، خاص طور پر آج کے دور کی نوجوان نسل فاسٹ فوڈ کو خریدنا اور اس پر زیادہ فضول خرچ کرنا پسند کرتی ہے۔ نہ صرف نوجوان نسل بلکہ بزرگ، بچوں سب کا لوگ فاسٹ فوڈ کو اپنے کھانے میں کھانا پسند کرتے ہیں۔ اگر ہم فاسٹ فوڈ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس کا آغاز اٹھارویں صدی میں امریکہ سے ہوا تھا۔ ابتدا میں فاسٹ فوڈ کا ذائقے میں کم تر تھا جس کی وجہ سے یہ اتنا خاص لوگوں کو پسند نہ آیا، یوں یوں وقت گزا لوگوں کا دھیان برگر اور برگر کی مختلف اقسام کی طرف بڑھنے لگا۔ غذائی ماہرین کے مطابق ان کھانوں میں بہت زیادہ کیلیریز موجود ہوتی ہیں، جو کہ خطرناک بیماریوں کو جنم دیتی ہیں جن میں جسم میں کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کا بڑھ جانا فہرست کے اول درجے میں ہیں۔ غذا انسانی جسم کے لیے بے حد ضروری ہے۔ فاسٹ فوڈ کھانے کے نقصانات دل کے امراضدل کے امراض پھلینے کی سب سے بڑی وجہ فاسٹ کا استعمال ہے اور یہ استعمال جوان نسل میں بے حد عام ہے۔ اگر نوجوان دل کی بیماری سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں فاسٹ فوڈ کو چھوڑ کر سبزیوں اور چکنائی سے پرهیز کر کے اپنی روزمرہ کی روٹین میں ورزش کو اپنا معمول بنا کر اپنی صحت کو اچھا بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ گردوں میں تکلیفجنک فوڈ کی بہت ساری اشیاء میں نمک کی زیادتی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمارے گردے خطرہ محسوس کرتے ہیں اور بیمار پڑ جاتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ سوڈیم آپ کے گردوں میں پتھری پیدا کر سکتے ہیں جو کہ بعض اوقات موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں اگر وہ زیادہ پھیل جائیں اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے۔ موٹاپے میں اضافہجنک فوڈ میں چونکہ کیلیریز کی مقدار بے جا ہوتی ہے اس لیے یہ ہمارے جسم کو موٹاپے جیسی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ہمارے جسم کو اک دن میں جتنی کیلریز کی ضرورت ہوتی ہے اگر ہم اس سے زیادہ کیلریز کا استعمال کریں گے تو ہمارا جسم بییماریوں کا شکار ہونے لگے گا جس میں سب سے واضع بیماری ماٹاپا ہے اور موٹاپا تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔ ذیابیطس کی بیماریکم وقت میں تیار ہونے والے کھانے ہمارا وقت تو بچ رہا ہے لیکن ہم ذیابیطس جیسی بیماری کا بہت جلد اور آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم اس کھانے کو کاربوہائڈریٹس اور گلوکوز میں تبدیل کر دیتا ہے، جو کھانا ہمارے جسم کے لیے ضروری ہوتا ہے یعنی جس سے جسم کو آرام پہنچتا ہے وہ بھی جذب کرتا ہے اور ان کے ساتھ ان عناصر ہو بھی جو جسم مین ذیابیطس جیسی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ ذہنی تناؤ میں اضافے کا سببچونکہ فاسٹ فوڈز میں چکنائی زیادہ ہونے کے باعث زہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ چکنائی ہمارے جسم میں اگر زیادہ ہو جائے تو ہمارے جسم کے کسی نہ کسی آرگن پر جم جاتی ہے جس سے بہت ساری بیماریاں ہوتی ہیں جن میں معدے کی بیماری بہت عام ہے۔ ہم نے ایک قول بچپن سے سن رکھا ہے کہ اگر جسم اچھا کام کرے گا تو ہمارا زہن بھی اچھا کام کرے گا اور ہم ایک کامیاب راستے کی طرف تب ہی چل سکتے ہیں اگر ہماری صحت ٹھیک ہوگی۔ اگر آپ ذہنی تنائو سے بچنا چاہتے ہیں تو آپکو فاسٹ فوڈز سے دوری مستقل طور پر بنانی ہوگی اور اس پر مکمل طور پر عمل کرنا ہوگا۔ یادداشت میں کمزوریفاسٹ فوڈ کے ہماری صحت پر بہت سارے منفی اثرات میں سے ایک اثر یادداشت میں کمزوری بھی ہے۔ گھریلو کھانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر کے لائنوں میں سبزیاں اگانے کے رواج کو بھڑاوا دیں جس سے ہمارے بچوں کے ذہنوں پر مثبت اثر پڑے گا۔ اپنے کھانوں میں زیادہ تر سبزیوں کے ساتھ گوشت کو استعمال کریں جو نہ صرف بچوں بلکہ ہر عمر کے لوگوں کے لیے ایک بہترین اور مکمل غذا سے کم نہیں ہے۔ دودھ اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیاء کو سوفٹ ڈرنکس کی جگہ پر استعمال کریں۔ فاسٹ فوڈ کلچر ہماری صحت کے لیے ایک کھلا خطرہ ہے۔ مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتا ہےفاسٹ فوڈ یا جنک فوڈ انسانی مدافعتی سسٹم کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے مضر اثرات ہمارے ہارمونز کی تبدیلی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ مدافعتی کمزوری ہمارے سارا دن کے کاموں میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ نظام انہضام خراب جنک فوڈ نہ صرف کھانے کو ہضم کرنے بلکہ چڑچڑا پن آنتوں والے سنڈروم کا سبب بنتے ہیں۔ یہ ہضمہ کی دیگر پریشانیوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسا کہ تیزابیت، گیس، اپھاڑا و غیره شامل ہیں۔ ان تیز کھانے کی اشیاء کھانے کی وجہ سے ہمارے پیٹ میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے جو پیٹ میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کی وجہ بنتا ہے جس کی وجہ سے آپ اپنے پیٹ کو پھولا ہوا محساس کرتے ہیں۔ جگر کو نقصان پہنچانے کا سببجنک فوڈ تیز مرچوں والا ہوتا ہے جو ہمارے جگر کے لیے نهایت خطرناک اور زہریلا ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کھانوں میں چربی، چکنائی اور شوگر زیادہ ہوتا ہے۔ چربی کا زیادہ استعمال جگر میں اکھٹا ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں غیر الکحل فیٹی جگر کی بیماری میں اضافہ کرتے ہیں۔ جلد پر اثراتبہت زیادہ جنک فوڈز جیسی تلی ہوئی اور پروسیسڈ کھانا کھانے کی وجہ سے چہرے پر مختلف طرح کے مسائل پیش آتے ہیں جیسے کہ کیل مہاسے جھڑیاں وغیرہ۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ بتایا گیا کہ جو بچے اور نو عمر افراد ہفتے میں تین بار سے زیادہ روز کھانا کھاتے ہیں ان لوگوں کو شدید قسم کا ایکزیمیا کی بیماری ہوتی ہے۔ کینسر کے خطرے کو مزید بڑھاتا ہےفاسفیت، آلو کے چیپس، اور کارن چپس جیسے فاڈز فوڈ کھانے سے بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ایک ہفتہ میں تلی ہوئی آلو کی ایک سے دو یا پانچ سرونگ یا ہر ہفتے چکن سینڈوچ کی دو سے تین سرونگیں کھانے سے بھی بڑٰ آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔






