سید طلعت شاہ
پاکستان میں مذہبی آزادی کی سنگیںن صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں. سونے پہ سہاگہ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی مذہبی آزادیوں پر رپورٹ کوہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ پاکستانی شہری قانون و آئین کے تحت مذہبی آزادی سے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ یہ آزادیاں انہیں آئین و قانون کے تحت میسر ہیں، امریکی رپورٹ پر وزارت قانون و انصاف اپنا مؤقف دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری بہنوں بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان نے بارہا دہرایا ہے کہ کسی بلاک کا حصہ نہیں ہیں، پاکستان بلاکس کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ ترجمان دفتر خارجہ سے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ پاکستان ایک متحرک جمہوریت ہے، پاکستانی عدالتیں پاکستانی قوانین کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ غزہ کے طلبہ 20 سے 30 کے بیجز میں پاکستان میں میڈیکل تعلیم مکمل کریں گے، حکومتِ پاکستان نے غزہ کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دی، پاکستان میڈیکل و ڈینٹل کونسل نے غزہ کے طلبہ کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان اکتوبر 2024ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا، پاکستان کےخصوصی نمائندے آصف درانی نے دوحا میں افغانستان پرمذاکرات میں وفد کی قیادت کی، آصف درانی نے افغانستان میں موجود دہشتگردی کے مراکز پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کارروائی خود مختار فیصلہ ہے، وزارت داخلہ ایسی کسی کارروائی کے بارے میں بتا سکتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مثبت ٹریجیکٹری ہے، پاکستان افغان عبوری حکومت کیساتھ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کیلئے رابطے میں رہا ہے، ہم افغان حکام سے خطے میں امن کیلئے ان اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے سہہ فریقی آذربائیجان، ترکیہ اور پاکستان کانفرنس میں شرکت کی، 2024ء پاکستان اور ایس سی او کے تعلقات میں اہم ثابت ہوا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ روسی فیڈریشن کے صدر سے وزیراعظم کی ملاقات ہوئی، پاکستان اور روس کے تعلقات ایک مثبت سمت میں گامزن ہیں، پاک روس باہمی تعاون مختلف شعبوں میں جاری ہیں جس کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس بعض اوقات مذہبی اقلیتوں کے ارکان کو ہلاک یا جسمانی طور پر زیادتی کا نشانہ بناتی ہے یا لوگوں کو مذہب سے منسلک تشدد سے بچانے میں ناکام رہتی ہے۔ اکثر، بدسلوکی کے الزام میں پولیس کو ہلکی سے منظوری دی جاتی تھی یا انہیں بالکل سزا نہیں دی جاتی تھی۔ ایک کیس میں، پولیس پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں توہین مذہب کے الزامات کا سامنا کرنے والے ایک قیدی کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔ 11 فروری کو ایک ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولا اور مار ڈالا۔ ان افسران کو محکمانہ انکوائری کے بعد بحال کیا گیا جب کہ وہ غفلت، نااہلی اور بزدلی کے مرتکب تھے۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ چکوال میں پیش آیا جہاں پر تھانہ صدر تلہ گنگ پولیس کی جانب سے ایک شیعہ مسجد و امام بارگاہ میں روایتی مجلس منعقد کرنے پر پولیس نے متعصبانہ رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے مومنین پر خلاف قانون مقدمہ درج کر دیا۔ پولیس کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جبکہ شیعہ مجالس کے منعقد کردہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تعصب کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کے آئین کی شق 20 واضح طور پر ہر شہری کو مذہبی آزادی کا حق دیتی ہے۔ اس میں اپنی عبادت گاہوں میں روایتی رسومات ادا کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ اس تناظر میں، بغیر کسی واضح وجہ کے ماتمی جلوس پر پابندی آئین کی خلاف ورزی تصور کی جانی چاہیے یا نہیں، اس کا فیصلہ پاکستان میں طاقت کی بنا پر کیا جاتا ہے.






